کے وائے ای سیریز کی پہلی پوسٹ

نوٹ،یہ پوسٹ اپریل 2018 میں پہلی بار جاری کی گئی تھی

یہ پوسٹ کے سلسلے کا کوڈ نیم کے وائے ای ہو گا۔ تاکہ سب ممبران کو گروپ سرچ میں تلاش کرنے میں آسانی ہو۔

انگریزی کا ایک مشہور معقولہ ہے Know Your Enemy کہ اپنے دشمن کو پوری طرح جانو پھر اسے شکست دینے کی منصوبہ بندی کرو.
چونکہ ہم نے شروع میں یہ کہہ دیا تھا کہ نہ ہم کبھی جھوٹ بولیں گے نہ بولنے دیں گے اور یہ کہ فلیٹ ارتھ خالی زمین کی ہئیت کی بابت بحث نہیں بلکہ عالمی استعمار کی پوری طرح سمجھ ہے. اسی وجہ سے ہم آج سے وہ کام کرنے جا رہے ہیں جو آج سے پہلے کسی بھی فلیٹ ارتھ فورم نے ابھی تک نہیں کیا کہ ون ورلڈ ون گورنمنٹ جس کے موجد اور مدافعين فری میسنز ہیں انکی اپنی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اس کے اہم نکات عوام کے سامنے لائے جائیں.

فری میسنز وہ تحریک ہے جسکے اندر ایک منظم ڈھانچہ ہے جو 1 ڈگری سے شروع ہو کر 32 ڈگری تک جاتا ہے. اسکے بعد 33 ڈگری آتی ہے جو سب فری میسنز کے باسسز کا مقام ہے. ان ڈگریز جو کہ حقیقت میں عہدے ہیں ان کی بابت بھی کلام چلتا رہے گا.

یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کو نہ تو کتابیں پڑھنے کا شوق رہا اور نہ ہی ان کو تلاش کرنے کا. جبکہ آج ہر کتاب کوشش کر کے تلاش کی جا سکتی ہے اور اپنے حقیقی علم کو استعمال کرتے ہوئے اس کے سورس اور حقیقی سمجھ کی گہرائیوں تک جایا جا سکتا ہے.
میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ میں مسطحتی سے پہلے تیکنیکی اعتبار سے ایک قسم کا فری میسن ہی تھا وہ اس وجہ سے کہ ماضی میں فری میسنز کو جوائن کرنے کی غرض سے میں نے نہ صرف داخلہ فارم بھیجا تھابلکہ انٹرویو بھی دے دیا تھا. جو احباب اس بابت جانتے ہیں کہ انٹرویو کس کا کیا جاتا ہے وہ جانتے ہوں گے کہ اسی انٹرویو کے لیے پہلے بہت سا مواد پڑھ کر اسی انٹرویو کی تیاری کرنا ہوتی ہے. ہم نے وہ سارا مواد نہ صرف پڑھا بلکہ یاد بھی رکھا. ٹائم بارڈر ڈیجٹل فائلوں کی شکل میں وہ مواد امیدوار کو ایک مخصوص وقت میں تیاری کے لیے دیا جاتا ہے. احباب گواہ ہیں کہ ماضی قریب میں فری میسنری کے دروازے سے واپس ہوا تھا. اسکی وجہ صرف ایک تھی کہ یہ پہلے سے امید وار کو کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ ون وے ٹکٹ ہے اگر آپ آ گئے تو مر کر ہی واپس جا سکتے ہیں اور جب تک زندہ ہیں تب تک فری میسن ہیں اور آرڈر کے جاری کردہ تمام قوانین آپ پر لاگو ہیں.
سب سے بڑا مسئلہ میرے لیے واپس ہونے کی وجہ یہ تھا کہ ٹھیک 10 ڈگری کے بعد جو کچھ ہوتا ہے اس میں سب سے پہلے ایمان ہی جاتا ہے.
یہ بات آپ خود پکڑ لیں تو پکڑ لیں آپکو کبھی نہیں بتائی جائے گی. اب میں اس پوسٹ کے مدعے کی طرف آتا ہوں.
فری میسنز میں ہر فری میسن کا کوڈ آف کنڈکٹ ہوتا ہے اصل مصدر اور بنیاد York Rite freemasonry ہے جس کا آئین البرٹ پایئک 33 ڈگری ماسٹر فری میسن نے باقاعدہ کتاب کی شکل میں جاری کیا تھا. اس کتاب کا نام Morals and Dogma ہے. مطلب اخلاقیات اور تعلیمات. کہنے کو یہ وہ کتاب ہے جو عام انسان کی سمجھ سے اوپر ہے. اسکی وجہ اسکی کوڈنگ ہے جسے وہی کھول سکتا ہے جو فری میسن ہو یا فری میسن کے بنیادی اور حقیقی تعامل خود سے کر چکا ہو. میں اپنے احباب کی بابت چاہتا ہوں کہ وہ اپنے اصل دشمن فری میسن کو پہچانیں اور اسکو پوری طرح سے سمجھیں.
اسی وجہ سے آج سے ایک سلسلہ شروع کیا جارہا ہے جس میں فری میسنری کی ہر ڈگری کی بابت بنیادی سمجھ اور اسکے اہم نکات بطور ثبوت جو کہ فری میسن مصدر کے سکرین شاٹ ہونگے وہ بھی پوری سمجھ کے ساتھ پیش کیے جائیں گے.
اس فورم کے غیر سنجیدہ ممبران سے درخواست ہے کہ وہ اس فورم سے ہماری اس پوسٹ کے بعد خود ہی تشریف لے جائیں ہمیں آپکی بالکل ضرورت نہیں ہے.
ہمارا مشن ہماری ذات سے بہت ارفع ہے ہم آپ لوگوں کے ساتھ لا حاصل بحث میں وقت بالکل برباد نہیں کرنا چاہتے. اس فورم کے تمام ایڈمنز مارک کر لیں سب ٹرولز آپ سب کو معلوم ہیں. جو چھپے ہیں جیسے ہی سامنے آئیں تو اس پوسٹ کی رو سے آپ انکو بنا وارننگ جاری کیے گروپ بدر کرنے میں آزاد ہیں.
لہذا وہ ممبران جو انڈاکٹرینینشن سے جاگ چکے ہیں وہ اب سے اپنے لیول کو بڑھائیں اور آگے بڑھیں یاد رکھیں آپ کا مقابلہ اس دشمن سے ہے جو ہر طرح کی اعلی ترین اخلاقی اقدار کا آپس میں پوری طرح پاس رکھتا ہے مگر ٹاپ لیول پر انسانیت کا خون نچوڑ کر اپنے ڈھانچے کو زندہ رکھتا ہے. یہ وہ دشمن ہے جو کبھی جھوٹ کو برداشت نہیں کرتا مگر ٹاپ لیول پر جھوٹ بولنا لازم جانتا ہے.
یہ وہ دشمن ہے جس کے ممبر بننے کے تین بنیادی اصول ہیں
You should have high moral values
You should sacrifice your self for your rite
You should believe A creator of this intelligent design.
تیسرے اصول پر پریشان مت ہوں یہ شروع میں آپ کے مذہب کے مطابق ہی ہوتا ہے جسے مسلمان کے لیے اللہ. عیسائی اور یہودی کے لیے یہووا
مگر جیسے ہی آپ 10 ڈگری پار کرتے ہیں تو یہ عقیدہ بڑی آہستگی سے ختم کیا جاتا ہے کہ 32 ڈگری تک وہ سپریم بینگ، ون کریٹر ابلیس لعین اور اسکی انسانی شکل أرض کا پہلا فری میسن خدا نمرود لعین بن جاتا ہے 32 ڈگری اور اسکے آگے اسی کی پوجا کی جاتی ہے اس بابت بہت کچھ آگے آئے گا.
یاد رکھیں فری میسنری کی بنیادی شرائط بہت اہم ہیں اسکو جاننے کے لیے.
باقی جو آپ کے سوالات و اشکالات اس پوسٹ کی بابت ہوں آپ پوچھ سکتے ہیں. ہر ممکن جواب پوری سچائی کے ساتھ دیا جائے گا. جس بات کا ہمیں نہیں پتہ ہو گا سلف کے منہج تعامل لا ادری پر ہمیشہ کی طرح عامل رہیں گے ان شاءاللہ
اپنی ذات سے باہر نکلئے اور دوسروں کے لیے جینا سیکھیں کہ آپ کو جسد واحد کی طرح امت مسلمہ کا دفاع کرنا ہے.
اپنے آپکو اپنے اصلی دشمن فری میسن کی اعلی اخلاقی اقدار جو کہ حقیقت میں آسمانی و الہامی اقدار ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا ایک دوسرے کی مدد کرنا اور مالک حقیقی اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان کو ہر صورت میں اپنے آپ کے اوپر لاگو کرنا ہے. تن آسانی سے کبھی کچھ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے جو سو رہا ہے اسے جگائیں ضرور مگر اپنا وقت اس پر برباد مت کریں بلکہ آگے بڑھیں اور کئی سوئے ہوئے آپکے منتظر ہیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم کے سچے دین پر جینے اور مرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو باعمل اور اعلی اخلاقی اقدار کا عامل مسلمان بنائے. آمین ثم آمین
سب مسلمانوں کے لئے دعائے خیر کی خصوصی اپیل
حافظ أبو تیمیہ الاندلسی.

میسنری کے دس احکامات

کے وائے ای سیریز

دس احکامات (the Ten commandments )

یہ ذکر گذر چکا کہ فری میسن ایک مضبوط مذہب ہے جو سوائے ملحد کے ہر مذہب کے ماننے والے کو لے سکتا ہے مگر کوئی بھی ملحد کسی صورت فری مسین نہیں بن سکتا۔ یہ بھی بین ہے کہ فری میسن مذہب اصل میں شروع سے لے کر اسلام تک گذرے مذاہب کا ایک متنجن ہے۔ جس میں غالب عنصریہود کبالسٹ کا ہے کبالسٹ یہود کا سب سے ایلیٹ فرقہ ہے جن کے ہاں عام یہود کا وہی مقام ہے جو یہود کے ہاں باقی مذاہب کے ماننے والون کا۔ مگر فری میسن میں ایسا بالکل نہیں ہے ہر وہ آدمی جو فری مسین بن گیا وہ اپنی ڈگری کے لحاظ سے ان کے درمیان عزت و تقریم پاتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔

ابھی تک پہلی ڈگری جاری ہے جس کے شروع میں ہی فری مسین کو بنیادی دس احکامات سکھا دیے جاتے ہیں۔
یہ وہی احکامات ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ہر الہامی مذہب میں مشترکہ ہیں۔ اسی مقام سے پہلی ڈگری پر موجود فری مسین کو ان دس احکامات کا ہر صورت پاس، لحاظ اور ان سے وفادار رہنا لازم ہو جاتا ہے۔
اُن دس احکام کو سکرین شاٹ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ من و عن ہبرو بائبل میں ذکر کردہ دس احکام ہیں۔ مگر اصل مسلہ ادھر ہی سے شروع ہو جاتا ہے کہ یہ کون سا رب ہے؟ وہ رب جو آدم و ابراہیمؑ والا ہے یا وہ جسے فری میسن 30 ڈگری پر جا کر آشکار کرتے ہیں۔
ان کے ہاں سپریم بینگ یہی لگتا ہے کہ وہی ہے جو حقیقت میں مالک کائنات اللہ تعالیٰ ہے۔ مگر جیسے ہی 30 ڈگری آتی ہے تو یارک رائٹ میں باقاعدہ طور ہر یہ آشکار ہوتا ہے کہ نہیں وہ رب نہیں ہے بلکہ لوسیفر جو انسانی شکل میں سب سے پہلے نمرود کی شکل میں آیا تھا یہ وہ رب ہے۔
یاد رہے جس نے نمرود کی بابت دھوکہ کھایا وہ اصل کھیل کو ہی سمجھنے سے قاصر رہا۔ نمرود وہ پہلا انسان تھا جس نے اپنے منہ سے اپنے رب ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے کسی انسان کی یہ جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنے منہ سے اپنے آپ کو رب کہہ سکے۔
نمرود ہی اصل میں فری مسین کے ہاں رب ہے مگر اس کا پتہ جب فری مسین کو چلتا ہے تب تک وہ 30 ڈگری پر ترقی پا چکا ہوتا ہے اور شروع میں نظر آنے والے ایک خالص توحیدی مذہب کی بجائے وہ براہ راست نمرود سے جُڑتا ہے جو درحقیقت ابلیس لعین کی ایک شکل جسے وہ لوسیفر کہتے ہیں مطلب روشنی کا فرشتہ۔ فری میسن میں روشنی علم کو کہا جاتا ہے بصیرت کو کہا جاتا ہے۔ ان کے ہاں یہ شروع میں وعدہ کیا جاتا ہے کہ آپ کو وہ علم و بصیرت ملے گی جو دنیا کے کسی بھی مذہب کی تعلیم سے نہیں مل سکتی۔ وہ علم و بصیرت درحقیقت وہی ہے جو شیطان نے انسان کو سکھایا تھا۔ اس میں اتنا کچھ ہے کہ اگر ابھی لکھنا شروع کیا تو اس سیریز کا مقصد کہ اپنے دشمن کو پوری طرح سمجھا جائے وہ ہی فوت ہو جائے گا۔
اسی لیے ابھی کے لیے جو پہلی ڈگری میں سکھایا جاتا ہے اسی پر کلام جاری ہے۔ فری میسن اپنی 29 ڈگری تک اپنے 5 بنیادی اصولوں پر ہر صورت کاربند رہتے ہیں۔ تا کہ وہ 30 ڈگری پر جا کر وہ پراڈکٹ تیار کر سکیں جس کسی بھی وقت کسی بھی صورت ان کے منصوبے کو عملی جامہ بلا تامل پہنا سکے۔ اسی لیے کوئی عورت کسی صورت فری میسن نہیں بن سکتی کہ وہ کبھی بھی پلٹا کھا سکتی ہے۔ مگر صرف مرد ہی فری میسن بنتا ہے۔ 30 ڈگری فری میسن کوئی عام لوگ نہیں ہوا کرتے۔ بڑے بڑے سیاستدان وہ بھی ہر کوئی نہیں بلکہ ہزاروں میں سے ایک۔ اُن کو اس عہدے تک لایا جاتا ہے۔
آپ کے کرنے کا کام اپنی اپنی تحقیق کریں کہ اب تک گذری سیریز میں بتائے گئے اصولوں پر آپ کی ںظر میں کون کون سا سیاستدان پورا اترتا ہے۔ وہ پانچ اصول پہلے جاری کئے جا چکے ہیں۔ ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ کو جب پتہ چلے اُس کے ہر پہلو پر غور کریں کہ وہ کون کون ہیں۔ سیاستدان اس لیے کہ نیو ورلڈ آرڈر کے بعد صرف سیاستدانوں کے لیے 30 ڈگری اور اُس سے اوپر کے عہدے مختص ہیں۔ باقی سب اس سے نیچے رہتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ یاد رہے سیاست دان صرف سیاست دان نہیں ہر وہ بندہ جس کے ہاتھ میں عوامی طاقت ہے یا آ سکتی ہے یا اس کا عہدہ اس کا متقاضی ہے وہ سب اس میں شامل ہیں۔ باقی آپ سب خود سمجھدار ہیں!۔

https://photos.app.goo.gl/HwW3yob1k7Jcb3fm2

میسن بننے کے لیے لازمی قواعد

کے وائے ای سیریز

SCOTTISH RITE OFFICIAL REQUIREMENTS,

While they are stated in slightly different words in various jurisdictions (and a few jurisdictions may have one or two requirements beyond these), they basically are as follows:

Being a man, freeborn, of good repute and well-recommended;

A belief in a Supreme Being;

Ability to support one’s self and family;

Of lawful age; and

Come to Freemasonry of their “own free will and accord”.

If Earth is Flat then how Moon Eclipse happen?

چاند گرہن کیوں ہوتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب گلوب میں کہا جاتا ہے کہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آنے کی وجہ سے ہوتا ہے ہم سب مسطحتین دلائل کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ ہے کیونکہ کوئی ایسا سایہ نہیں ہے جو پہلے چاند کو کالا کر دے اور پھر لال کر دے؟۔

ضروری گذارش؛
اگر آپ اس پوسٹ کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اگر آپ فلیٹ ارتھر نہیں ہیں تو پہلے اپنے ذہن کو موجودہ گلوب ماڈل سے بالکل خالی کر کے اس کو پڑھیے گا۔ گلوب ماڈل ایک جھوٹ ہے اور ہمارے پاس اس کے ان گنت ثبوت ہیں۔ جبکہ جو احباب فلیٹ ارتھر / مسطحتی ہیں وہ اس پوسٹ کو بہت ہی غور سے پڑھیں۔

جواب؛

گلوب ماڈل کی رو سے یہ بالکل ناممکن ہے جسے ہم نے اپنی جاری کردہ رے آپٹک سیمولیٹر والی ویڈیو میں بھی ثابت کیا تھا پہلے وہ ویڈیو دوبارہ دیکھیئے!

 سوڈو سائنس یہ کہتی ہے کہ چاند گرہن زمین کے سورج اور چاند کے درمیان آنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا ہونا ناممکن ہے۔ جانیے اِس آپٹک سیمولیٹر کی مدد سے۔

چونکہ چاند گرہن کسی صورت بھی زمین کے سائے کی وجہ سے ہونا ممکن نہیں ہے تو ہمیں اُ س حقیقت کو لازمی تلاش کرنا ہوگا  ایسا ہونے کی  اصل وجہ کیا ہے؟۔ اس بات کی بنیاد کو آپ سیمولیٹر کی ویڈیو میں دیکھ چکے ہیں۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سورج گرہن ہونے کی وجہ چاند کا زمین اور سورج کے درمیان آنا ہے۔ چونکہ چاند اور سورج آسمان پر نظر آنے والے سب سے واضح فلکی اجسام ہیں تو انسان شروع سے ان دونوں کا خاص طور پر مشاہدہ کرتا آیا ہے۔
سب سے پہلے قدیم مصری تہذیب نے اِس بات کا پتہ لگایا تھا کہ چاند اور سورج گرہن کیوں، کیسے اور کب کب ممکن ہوتے ہیں۔ (موجودہ دور میں بھی جس حساب کتاب “سیروس” کی بنیاد پر اِس 18 سالہ گرہنوں کے سائیکل کا پتہ چلایا جاتا ہے کہ آنے والے اگلے سالوں میں گرہن کب، کتنا اور کسی مقام پر ہو گا) سیروس کی بنیاد قدیم مصری تہذیب نے اپنے کمال کے فلکیاتی مشاہدات کی بنیاد پر رکھی تھی جسے بعد کےادوار میں یونانی تہذیب نے اپنے کمال پر پہنچایا تھا۔ اُسی سیروس کی بنیاد پر آج بھی گرہنوں کے سارے حساب کتاب کو کیا جاتا ہے۔ چونکہ اب ٹیکنالوجی کافی ترقی کر چکی ہے تو یہ حساب کتاب بہت آسانی سے آنے والے سن 2099 تک کا ڈیٹا کی شکل میں آج موجود ہے۔

ہماری اس پوسٹ کا اصل مدعا چاند گرہن ہے کہ وہ کیسے اور کیوں ہوتا ہے؟

چاند گرہن حقیقت میں انوبس جو کہ ہندی فلکیات میں ایک شفاف فلکی جسم راہو اور کیتھو کے لیے بولا جاتا ہے، کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دی گئی سب سے پہلی تصویر میں آپ چاند کے مدار میں موجود (کہ چاند اپنے مدار میں چلتے چلتے انوبس جو کہ چاند گرہن کے موقع کے علاوہ سورج کے قریب ہی رہتا ہے) اِس فلکی جسم کو دیکھ سکتے ہیں کہ جب یہ چاند کے ساتھ اپنے اوپری مدار میں ہوتا ہے تو اِس کو راہو کہتے ہیں، یہ تب سیاہی مائل سایہ ہوتا ہے جو چاند کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ پھر چاند کو اپنی لپیٹ میں لیے جب یہ اپنے مدار کے نچلے حصے میں آتا ہے تو یہ سُرخی مائل ہو جاتا ہے تب اسے کیتھو کہتے ہیں انگریزی میں بالترتیب (Rahu & Ketu) کہلاتے ہیں۔ اِسی جسم کو قدیم مصری تہذیب میں انوبس کہا جاتا تھا جس کا انگریزی مطلب بلیک سن / کالا سورج ہے اور یہ اِسی نام سے نورس فلکیات میں بھی موجود ہے۔ اِسی فلکی جسم کو آج ناسا جیسے سوڈو سائنس کے ایلیٹ پلانِٹ ایکس کہتے ہیں۔

یہ تصویری چارٹ ہندی فلکیات سے ماخوذ ہے۔ راہو اور کیتھو حقیقت میں وہ فلکی جسم ہے جو چاند کے مدار میں تب آتا ہے جب چاند گرہن کے موقع بنے اور چاند کے مدار میں انوبس آ جائے۔ عام حالات میں انوبس سورج کے آس پاس چلتا رہتا ہے لیکن چونکہ یہ فلکی جسم بالکل شفاف ہے تو اِسے عام حالات میں دیکھنا بالکل ناممکن ہے اِسے صرف تب ہی دیکھا جا سکتا ہے جب چاند گرہن کا موقع ہو اور یہ چاند کے بالکل قریب آ رہا ہو اور چاند کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا ہو۔

شائد آپ کو پہلی بار یہ بات عجیب لگے لیکن حقیقت ہے جس کا ثبوت بھی پوسٹ کی تصویر نمبر 2 اور تصویر نمبر 3 میں موجود ہے۔ (اگر کوئی گلوبر اُسے لینزز فلئیر سے تعبیر کر رہا ہے تو اُس سے ہمیں پوری ہمدری ہے کہ وہ انوبس اور لینز فلئیر میں بھی فرق کرنے سے قاصر ہے اور یہ کہ لینز فلیئر کیا ایسی ہوا کرتی ہے؟) اگلی بار آپ بھی اِسے خود سے تصدیق کر سکتے ہیں۔ اصل سائنس ہی وہ ہے جس کی مطلوبہ پیمانوں کے ہوتے کوئی بھی تصدیق کر سکتا ہے یہ نہیں کہ سوڈو سائنس کی طرح ہر بات صرف قیاس اور تھیوری ہو اور جس کی کوئی بھی تصدیق نہ کر سکے۔

نوٹ؛ ہم ماضی میں اس بابت ایک غلطی کرتے رہے ہیں کہ یہ دو اجسام ہیں، نہیں بلکہ حقیقت میں یہ ایک ہی جسم ہے جس کی مدار کی بلندی کے حساب سے الگ الگ تعاملات ہیں۔ ہمارے لیے ابتدائی طور پر اسے سمجھنا بہت ہی مشکل رہا ہے۔ اور کئی بار احباب کے اصرار کے باوجود ہم نے اس پر کچھ نہیں لکھا کہ پہلے ہم اپنی تحقیق ہر لحاظ سے مکمل کر لیں پھر ہی اس پر کلام کریں اور کوئی تفصیلی تحریر لکھیں۔ لہذا ہم اپنے سابقہ مؤقف سے دلیل کی بنیاد پر رجوع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی فلکی جسم ہے جس کا تعامل چاند کے ساتھ گرہن کے دوران ان کے مدار کے بلندی تبدیل ہونے کی وجہ سے الگ الگ ہے اسی وجہ سے عام طور پر چاند گرہن کے دوران چاند زیادہ بڑا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زمین سے فاصلہ انوبس کے اُسے اپنی لپیٹ میں لینے کی وجہ سے زیادہ وزنی ہو کی نیچے آ جاتا ہے تبھی زمین سے چاند ہمیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے بالکل ویسے جیسے اکثر چاند اپنے مدار کی بلندی تبدیل کر کے نیچے آتا ہے اور ہمیں بڑا نظر آتا ہے عین ویسے ہی چاند انوبس کی وجہ سے اپنی بلندی تبدیل کرتا ہے اور قریب آنے پر زیادہ بڑا نظر آتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ چاند کا بڑا ہونا گرہن کے لال رنگ والے فیز میں ہوتا ہے کالے والے میں نہیں بغور مشاہدہ کر کے آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

مزید اس پر تحقیقاتی ڈاکیومینٹریز پر مشتمل پوسٹ بھی ملاحظہ فرمائیں؛

چاند اصل میں کیا ہے اور چاند گرہن کی حقیقت کیا ہے؟
اس
پر کچھ منتخب کردہ ڈاکیومینٹری ویڈیوز

چاند کی وضاحت
https://www.youtube.com/watch?v=n4GmeI2omfM&t=1s

چاند کی وضاحت
https://www.youtube.com/watch?v=7g7nSg4ofJw

چاند گرہن کی وضاحت
https://www.youtube.com/watch?v=9oMc42Wg7sU&t=9s

چاند گرہن میں راہو اور کیتھو کا کردار
https://www.youtube.com/watch?v=RXT_3Hskhbo

ایک چاند گرہن کی ڈیبنک ویڈیو
https://www.youtube.com/watch?v=CzRDwQaslbk&t=207s

چاند گرہن کی حقیقت میں جو وجہ ہندی فلکیات میں بیان ہوئی ہے وہی اصل سائنسی وجہ ہے کہ ہر سال میں کم از کم 2 بار ایسا ہوتا ہے کہ راہو اور کیتھو / انوبس کے نام سے یہ فلکی جسم چاند کے مدار سے متصل اپنے مدار میں چلتے چلتے چاند کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ راہو کالے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اسی وجہ سے چاند گرہن جب شروع ہوتا ہے تو پہلے چاند گھنانے لگتا ہے مطلب سیاہی مائل ہونے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے غائب ہوتا نظر آتا ہے اور چاند گرہن کے دوسرے مرحلے میں عام طور پر کیتھو جو کہ سُرخ رنگ کے لیے بولا جاتا ہے، انوبس کے چاند کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہی مدار کی تبدیلی سے اپنے مدار میں نیچے آنے پر چاند لال ہو جاتا ہے اور ہمیں چاند سُرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

یہ فلکی جسم بطور سایہ شروع سے قدیم تہذیبوں کی فلکیات میں موجود ہے چونکہ سکہ رائج الوقت سوڈو فلکیات / ہیلیوسنٹرک ماڈل میں انسانوں کو کھلی دھوکہ دہی سے ثابت کرنا تھا کہ زمین گلوب ہے تو یہ کہانی گھڑ لی گئی کہ زمین کے سورج اور چاند کے درمیان میں آنے کی وجہ سے چاند گرہن ہوتا ہے لیکن کوئی بھی ایسا ایک تجربہ دکھا دیا جائے جس میں یہ ثابت کیا جا سکے کے زمین کا سایہ کسی صورت لال رنگ بنا سکتا ہے؟۔
جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ سایہ سایہ ہوتا ہے جس میں کوئی بھی شے اپنا اصل رنگ کھو دیتی ہے۔ چونکہ عموما چاند گرہن کا سلسلہ ہی ایسے ہوتا کہ کہ وہ پہلے کالا پھر لال ہوتا ہے تو جدید سوڈو سائنس جی بھر کر ہم سب کے منہ پر اس بابت جھوٹ تو بولتی ہے لیکن ثبوت نہیں دیتی جیسے آپ تصویر نمبر 4 میں دیکھ رہے ہیں۔

تصویر نمبر 1 میں یہ بھی واضح ہے کہ انوبس/ راہو اور کیتھو (اب سے تحاریر میں انوبس ہی استعمال ہوگا نوٹ کر لیں) کا راستہ بھی صاف دکھائی دے رہا ہے جو سورج کو کراس کر رہا ہے اور کیسے چاند گرہن کے دوران چاند کے انوبس کے مدار میں چاند کے آنے سے اور انوبس کا سورج کے قریب اپنے مدار کو چھوڑ کر چاند کو اپنی لپیٹ میں لینے کا کام کرتا ہے۔ تبھی صحیح حدیث میں چاند اور سورج گرہنوں کو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا گیا ہے۔

تصویر نمبر 5 میں ملاحظہ فرمائیں قدیم مصری زبان میں سیٹ چاند کو کہتے تھے اور سول سورج کو۔

یہ انوبس چاند گرہن کے دوران ہی چاند کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اٗسے گہناتا ہے اور بالترتیب پہلے کالا اور پھر لال کرتا ہے اور آخر میں چاند سے الگ ہو کر اپنے مدار سورج کے قریب چلا جاتا ہے۔
چاند گرہن کے دوران جیسے ہی یہ سورج سے اپنا مدار کراس کرتا ہے تو یہ چاند کو عموما اسکے فیز کی انتہا یعنی چودھویں تاریخ کو / بدر کے چاند کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے کہ چاند اُس وقت سورج سے اپنے فاصلے کے انتہائی مقام پر اور مخالف سمت میں ہوتا ہے۔

اس پر ایک سائنسی ٹرم بھی ملوظ خاطر رہے وہ ہے۔ سیلینیلیون گرہن۔
یہ وہ گرہن ہوتا ہے جس دوران چاند اور سورج دونوں اُفق سے اوپر موجود ہوں یا سورج اُفق کے قریب موجود ہو اور چاند اُفق سے اوپر موجود ہو۔ یہ گرہن قریب ہر اُس چاند گرہن میں ممکنا طور پر نظر آ سکتا ہے جس میں گرہن کے ختم ہونے کےمقام پر طلوع آفتاب کا وقت ہو جائے۔ جیسے 31 جنوری 2018 کو ہونے والے چاند گرہن کے دوران فلمائے گئے اسی سیلینیلیون گرہن کی بابت ہمارے عزیز دوست ڈیرل ماربل کی 31 جنوری 2018 کے چاند گرہن کی بابت نقلی گلوب کی بہترین ڈیبنک ویڈیو میں یہ بات واضح طور پر بیان کی کہ؛
سوج اور چاند دونوں افق پر واضح ہیں. پوری ویڈیو سکون سے دیکھیں اور سیلینیلیون گرہن کا عملی مظہر دیکھیں ساتھ میں کیسے ہم سب کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا ہے اُس کا بھی پول کھلتا ملاحظہ کیجئے۔

یہ وہ نظارہ ہے جو اکیلا ہی پوری گلوب اور ہیلیو سنٹرک ماڈل کا پول کھول کر رکھ دیتا ہے کہ یہ گپ جو چھوڑی جاتی ہے کہ چاند پر زمین کا سایہ پڑنے سے گرہن ہوتا ہے تو اس نظارے میں زمین کے مبینہ سائے کے سورج کے حساب سے اینگل کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی یہ کہے تو ہم اس بات پر کھل کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بندہ ریاضی، اینگلز جیومیٹری کی الف ب بھی نہیں جانتا۔

جبکہ سوڈو سائنس اس خاص نظارے کی انتہائی دقیانوسی توجیح کرتی ہے جس کا مکمل رد آپ آپریشن زیب نامہ کے صفحہ نمبر 355 پر جاری بحث میں تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں مزید اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے آپ ہماری منتخب کردہ اس پلے لسٹ سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں؛

https://www.youtube.com/watch…

یہ پوری پلے لسٹ دیکھ کر آپ اس مدعے کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں سیلنیلیون گرہن کیسے سکہ رائج الوقت سوڈو سائنس کے گلوب ماڈل کی قلعی کھول کر رکھ دیتا ہے۔

چاند گرہن کا سائنسی پراسیس؛

انوبس کے مدار کا جھکاؤ سورج کے مدار کے حساب سے 5 ڈگری 10 منٹ ہے، اس لحاظ سے گرہن تب ہی ممکن ہو گا جب یہ تینوں فلکی اجسام (سورج، چاند، انوبس) جب ایک سیدھ میں آ جائیں اور چاند اُس وقت سورج کے مدار کی گذرگاہ سے گذرے جسے نوڈ بھی کہا جاتا ہے۔ کسی بھی ایک سال کے دوران ان تینوں اجرام فلکی کی اپنے مدار میں چال کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 3 بار ہی ہو سکتا ہے۔ 
انوبس کبھی بی آسمان پر نہیں دیکھا جا سکتا اُس کی ایک وجہ تو بیان ہو چکی کہ وہ شفاف ہے اور دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ سورج کے انتہائی قریب چلتا ہے۔ اور چلتے چلتے ہیں چاند جب اُس مقام پر آتا ہے تو اُس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ انوبس بھی باقی اجرامی فلکی کی طرح سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرتا ہے جیسے باقی جملہ اجرام فلکی سورج کے گرد زمین کے اوپر اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں جن کو آپ اس کے ذریعے بھی سمجھ سکتے ہیں؛

ٹیکو براہی کا بھی زمین کو مرکز ہوتے ہوئے پورا کائناتی ماڈل یہی تھا جس کی بابت ہم نے تفصیل سے اپنے رسالے حقیقۃ الارض میں لکھ کر جاری کیا تھا یہ رسالہ بھی ہماری ویب سائٹ کے بُک سیکشن میں موجود ہے۔سائنسی طور پر اس پہلو پر مزید گہری تحقیق کی ضرورت ہے کہ ان سب اجرامِ فلکی کی برتاؤ سمجھا جا سکے کیونکہ رائج الوقت سوڈو فلکیات نے اصل علم کو ہی چھپا رکھا ہے تو اِس کی حقیقت کو جاننے کے لیے جتنا بھی ہم سے ممکن ہو سکتا ہے قدیم فلکیاتی کتب سے تلاش کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر سکتے ہیں۔ یادرکھیں ہمارا وعدہ کہ نہ ہم جھوٹ بولیں گے نہ بولنے دیں گے اور جس بابت غلط ہونگے دلیل کی بنیاد پر اعلانیہ رجوع کریں گے۔

اس پر مستقبل میں اگر ہمیں مزید ذرائع میسر ہو سکے تو مزید تحقیق کریں گے اور آپ سے شئیر کریں گے ابھی تک بعد از تحقیق جو معلوم ہو سکا اور جو سمجھ سکے وہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اصولی طور پر یہ پوسٹ ہماری آنے والی کتاب کا حصہ تھی لیکن قارئین کے اصرار پر ابھی اِسے پوسٹ کی شکل میں جاری کر دیا گیا ہے۔

ہمیشہ کی طرح دعائے خیر کی خصوصی اپیل ہے!

حافظ عبدالوھاب الہاشمی ، کنیت: حافظ ابو تیمیہ الاندلسی


کے وائے ای سیریز، عقیدہ تثلیث

کیا یہ اتفاق ہے کہ عقیدہ تثلیث گھڑا گیا ہو؟
نہیں بالکل نہیں یہ اتفاق نہیں بلکہ ہم سے چھپا دی گئی وہ تاریخی حقیقت ہے جس پر کم ہی غور و تحقیق کی جاتی ہے۔ اس پر ایک بہترین محقق پروفیسر لنگڈن نے کافی کام کیا تھا مگر اس کا مطمع نظر صرف بابل تھا۔ ہم نے اس پر اُسی پہلو سے مزید تحقیقات کی اور خرگوش کے سرنگ میں مزید گہرائی تک چلتے گئے۔

اور اس گہرائی میں جو ملا آپ اسے ہی پڑھ رہے ہیں لف کی گئی تصویر میں موجود ٹیبل کو غور سے پڑھیں یہ کوئی اتفاق نہیں وہ کڑوی حقیقت ہے جس پر کبھی ہم نے غور ہی نہیں کیا کہ جبکہ طوفان نوح میں ساری زمین کا صفایا کر دیا گیا تھا تو کیسے بعد میں دوبارہ سے شرک اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت ابلیس نے نمرود کے ذریعے ہی کرائی تھی۔ مگر اس بار فرق یہ تھا کہ بجائے کسی کے بت کو پوجا جائے بلکہ اُس کو سامنے کر دیا جائے۔ 
نمرود نے اپنی بہن جو اسکی ماں بھی تھی اور پھر اسکی بیوی بھی بنی سمیراس / ایشتار اسی سے اپنے پیدا ہونے والے بیٹے تاموز سمیت اپنی خاندانی مثلث کو بطور معبود بطور مسیحا انسانیت اور بطور رب پوجنے کا حکم صادر کیا۔

ابھی اسی کو سمجھیں کہ کیسے جب اس کی قوم پوری زمین پر بھیلی تو وہ اپنے ساتھ اپنے معبودانِ باطلہ کو بھی لے گئی جس علاقے میں جا کر آباد ہوئی اپنی اپنی زبان اور اپنے اپنے طریقے سے ان تینوں کو ہی پوجتی رہی۔ 
سوڈو تاریخ تو ہمیں کہانی سناتی ہے کہ انسان ہزاروں سال پہلے دنیا کے مختلف حصوں میں آباد ہوا وہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ طوفان نوح کا ذکر ہر قوم ہر مذہب میں موجود ہے کہ پوری دنیا کا صفایا ہو گیا تھا پھر نوحؑ کے تینوں بیٹوں سے نسل انسانی کا احیاء ہوا تھا۔ چونکہ سوڈو سائنس ہر صورت میں مذہب کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتی ہے تو اس نے ہر ممکنہ طور پر اس اہم نکتے پر پردہ ڈال رکھا ہے۔

عقیدہ تثلیث ہی طوفان نوح کے بعد شرک اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی بنیاد ہے۔ اسی کے دلیل کے طور پر آپ دیا گیا چارٹ بار بار اور عمیق سمجھ کی مدد سے دیکھیں۔ آپ کو ساری پراسراریت آپ کے سامنے کھلتی مل جائے گی۔

انگریزی زبان بھی صرف زبان نہیں بلکہ پوری گماتریا کی بنیاد پر بنائی گئی تھی۔ قدیم ترین یورپی تہذیب سکینڈے نیون وائی کنگ تھی۔ جس کے زبان کی بنیاد پر انگریزی زبان بنائی گئی یہ بھی ایک الگ سے بہت ہی وسیع اور پراسرار موضوع ہے۔ دلیل کے لیے صرف ہفتوں کے ناموں پر اکتفا کرتے ہیں باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

Sunday= Sun’s Day
Monday = Moon’s Day
Tuesday = Twi’s Day (Mars Day)
Wednesday = Odin’s Day (Nimrod)
Thursday = THOR’s Day (Tammuz)
Friday = Freyda’s Day (ISIS’ Day) (Simmiras / Ishta’s day)
Saturday = Saturn’s Day

عقیدہ تثلیث کا مختلف مذاہب میں مصدقہ وجود

کے وائے ای سیریز، نمرود

کہنے کو بابل کا بادشاہ تھا. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اسی لعین کا مناظرہ ہوا تھا. اسی نے ابو ا النبیاء علیہ السلام کو آگ میں ڈلوایا تھا. مگر اس کا ہماری اس سیریز سے کیا لینا دینا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں سارے راز چھپے ہیں. نمرود وہ پہلا انسان تھا جس نے خود کو رب کہا تھا اس سے پہلے کسی کی جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ یہ دعویٰ کر سکے. رب ہونے کے تمام لعین دعویدار نمرود کے بعد ہی ہوئے ہیں. یہ پہلا تھا. مگر اس کی اہمیت اس وجہ سے بہت زیادہ ہے کہ اس نے ایسے بہت سے کام کیے تھے جن کا اثر ہمیشہ کے لیے انسانوں پر پڑ گیا اور آج بھی جاری ہے اور دجال. لعین تک جاری رہے گا.
اس انسان پر بہت ہی کم تحقیق کی گئی ہے مگر جس نے بھی کی ہے اس کی تحقیق ایک ایسے اہم نکتے تک گئی ہے جہاں پر ساری گتھیاں اپنے آپ. سلجھ جاتی ہیں وہ نکتہ ہے دنیا کے بڑے مذاہب اور تہذیبوں میں تین کرداروں کا.
باپ، بیٹا، اور ماں
آپ اگر خود سے تحقیق کریں گے تو حیرت انگیز طور پر اسلام کے علاوہ ہر مذہب و تہذیب میں یہ تین بنیادی کردار پائیں گے. فری میسنز کے ہاں نمرود رب کا اوتار ہے اور فری میسنز کی 29 ڈگری تک فری میسن کے لیے وہی رب ہوتا ہے جو اسکے مذہب نے بتایا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی 30 ڈگری کا حلف اٹھاتا ہے تو اسکے سامنے حقیقی رب کی گھتی کھولی جاتی ہے کہ نہیں اصل رب لوسیفر ہے جو علم کی روشنی کا منبع کا جس کی انسانی شکل میں نمرود زمین پر آیا تھا.
چونکہ البرٹ پائیک مورل اینڈ ڈوگما میں اسی پر کھل کر لکھ گیا تھا تبھی جدید فری میسنز ظاہری طور پر اپنی اس مصدری کتاب سے بیزاری کرتے ہیں مگر حقیقت میں یہ انکا کوڈ آف کنڈکٹ ہے.
نمرود کی بابت ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس نے بابل کا مینار بنوایا تھا یہ مینار کیوں بنایا گیا تھا کبھی آپ نے اس پر سوچا؟
اس کے معمار ابتدائی فری میسن کہلائے جنہوں نے اپنے آپ کو پوری طرح سے نمرود کے لیے وقف کر دیا تھا. ایک بات یاد رہے نمرود طوفان نوح کے بعد سب سے پہلے انسانی آبادی سب سے پہلی سلطنت کا مطلق العنان بادشاہ تھا. اس لعین کی ایک اور اہم بات کہ اس نے اپنی بہن سے شادی کی تھی جو اس کی حقیقی ماں بھی تھی. اسکا بابلی نام ایشتا تھا. یہ وہی ایشتا ہے جس کے یوم پیدائش کے طور پر آج بھی عیسائی اپنے دین سے جہالت کی بنیاد پر ایسٹر مناتے ہیں یہ اسی ایشٹا کا یوم پیدائش ہے. 25 دسمبر عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش نہیں بلکہ درحقیقت نمرود کا یوم پیدائش ہے. یہ سب عیسائیت میں پولس یہودی نے جو ایک کبالسٹ ربی تھا بظاہر عیسائی پوپ بن کر بڑی عیاری سے کونسل آف نیسیا کے ذریعے اور قسطنطین کی آشیرباد سے عیسائیت پر نافذ کر آ گیا.
نمرود، ایشتا اور ان کا بیٹا تاموز یہ تینوں حقیقی طور پر اسلام کے علاوہ ہر مذہب ہر تہذیب میں آج تک پوجے جاتے ہیں. فری میسنز کہنے کو 300 سال پرانے ہیں مگر جب ہم انکی مصادر کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں یہ کلام فخر سے ملتا ہے کہ ہم ہی وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے اوتار نمرود کے لیے وہ عظیم الشان مینار تعمیر کیا تھا.
پہلے اس مینار کی بابت بھی کچھ پڑھ لیں. تلمود، فری میسن مصادر اور بائبل میں جو اسکی بابت ہے وہ آپس میں کافی متضاد ہے.
تلمود میں اسے انسانوں کی پہلی درسگاہ کہا گیا ہے. جبکہ حقیقت میں یہ مینار ابلیس لعین کی رہنمائی میں تعمیر کیا گیا تھا.
فری میسنری میں بھی اسے انسانوں کی پہلی عظیم الشان درسگاہ اور پارلیمنٹ کہا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ فری میسنری کا زمین پر سب سے پہلا لاج تھا.
بائبل کے عہد نامہ قدیم کی کتاب جینیسز اور جاشر میں اس مینار کی بابت چشم کشا انکشافات اختصار میں بیان ہوئے ہیں. بائبل کے لیے میں ہمیشہ کنگ جیمز ورژن استعمال کرتا ہوں کیونکہ موجودہ دور میں اگر کسی بائبل کے نسخے کے چرچ خلاف ہے اور باقی نسخوں کے مقابل کو نسخہ کم تحریف شدہ ہے تو وہ یہی نسخہ ہے.
بائبل میں جاشر اور جینیسز کا اختصار کچھ اسطرح ہے.
نمرود وہ پہلا تھا جس نے خود کو خدا کہا.
نمرود وہ تھا جس نے طوفان کے بعد پہلی عظیم سلطنت بنائی.
نمرود کنعان کا بیٹا اور حام بن نوح کا پوتا تھا.
کنعان طوفان کے دوران کشتی پر ہی پیدا ہوا تھا.
کنعان طوفان سے پہلے زمین پر. موجود جسیم و طاقتور ترین انسانوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا. جن کے بڑے بڑے قد ہوتے تھے اور بہت ہی طاقتور اور جسیم ہوتے تھے خاص نشانی انکے ہاتھ اور پاؤں کی چھ انگلیاں ہوتی تھیں.
حام کی وفات کے بعد جب دوبارہ انسانوں میں فساد شروع ہوا تو اسی کنعان نے شام و فلسطین کے قدیم علاقوں پر مشتمل کنعانی سلطنت کی بنیاد رکھی اور اپنی بہت ہی ذہین بیٹی ایشتا سے شادی کی جس سے نمرود پیدا ہوا. جسکے بچپن میں ہی کنعان مر گیا اور ایشتا نے ہی نمرود کے جوان ہونے تک بطور حکمران اس سلطنت کو. مستحکم کیا اور نمرود کے باقاعدہ بادشاہ بننے پر اس سے شادی کی جس سے نمرود کا جانشین تاموز پیدا ہوا.
نمرود نے کنعانی سلطنت کو وسعت دی اور مصر کے علاقے کو آباد کیا اور. پہلی. مصری تہذیب کی بنیاد بھی بابل ہی کی طرز ہر رکھی. جیسے بابل فرات کے کنارے تھا عین ویسے ہی مصر نیل کے کنارے آباد کیا. یہی اس وقت کی معلوم دنیا اور اکلوتی سلطنت تھی.
بائبل کے ہی. مطابق نمرود جب طاقت میں بہت بڑھا تو سرکشی میں بھی ہر حد پار کر گیا اور اس نے بابل کے مینار کو بنوانا شروع کیا.
جس کا مقصد جاشر کے مطابق یہ تھا.
نمرود نے اپنی تین طاقتور جماعتیں تیار کیں سب کو الگ الگ کام سونپے.
پہلی کا. کام جب مینار مکمل ہو. جائے تو تم آسمان پر چڑھ کر وہاں موجود رب کو مار دینا. (نعوذ باللہ )
دوسری جماعت کا کام کہ جب مینار مکمل. ہو جائے تو تم آسمان پر چڑھ کر زبردست جنگ لڑنا اور سب کو مار ڈالنا.
تیسری جماعت انہی معماروں کی تھی جو اسکے پروہت بھی تھے انکا کام یہ سونپا گیا کہ جیسے ہی ہم آسمان پر چڑھ کر جنگ شروع کریں تو تم سب فورا ہمارے بت پورے آسمان میں رکھ دینا کہ باقی فرشتے نمرود کو رب مان کر پوجنا شروع کر دیں. مگر اللہ یہ سب جانتا تھا اور انکو برے منصوبے بناتے دیکھ رہا تھا.
جاشر میں ہی اس سے آگے لکھا ہے کہ،
جیسے ہی مینار مکمل ہوا تو اللہ نے ان پر عذاب بھیج دیا کہ وہ ایک زبان بولنے والے ایک مضبوط جماعت کے حامل 70 اجنبی زبانوں میں منقسم ہو گئے اور ایک دوسرے سے اجنبی ہو گئے اور انکی ہوا اکھڑ گئ اور سب منتشر ہو گئے.
یہ تو تھا بائبل میں لکھا اس بابت اختصار.
اب اگر ہم اس کی گہرائی میں جانا چاہیں کہ اس سے آگے کیا ہوا تھا تو وہ بائبل کے عہد نامہ قدیم میں اشارۃ اور تلمود و فری میسنرز کے مصادر میں تفصیل سے ملتا ہے.

مینار پر آئے عذاب کے نتیجے میں قومِ نمرود پوری زمین پر کدھر کدھر اور کیسے آباد ہوئی؟

لنک پوسٹ میں آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ کیسے طوفان نوح کے بعد پوری زمین پر انسان ہر ممکنہ جگہ پر جا کر آباد ہوئے۔

اب کچھ مزید بابل کے مینار کی بابت کہ وہ مینار بالکل اتنا اونچا نہیں تھا کہ اس پر چڑھ کر آسمان پر جایا جا سکتا بلکہ ابلیس لعین نے نمرود کو اور اُس کے پروہتوں فری میسنز کو وہ ہر ممکنہ جادو سکھایا تھا جس کی مدد سے آسمان پر چڑھا جا سکتا تھا مگر چونکہ آسمان پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بنا کوئی نہیں چڑھ سکتا تو ابلیس نے قوم نمرود کو بھی وہ دھوکہ دیا۔ جس کا وہ شکار ہو کر عذاب الہی میں مبتلا ہوئے۔
جدید سائنس جسے ورم ہول کہتی ہے یہ وہی بابل کا جادو ہے جس پر یہود کبالسٹ اور فری میسنز کو پوری دسترس حاصل ہے۔ ورم ہول کی بابت یہی تھیوری ہے کہ اس میں فاصلہ اور وقت مُڑ کر مختصر ترین ہو جاتا ہے یہی ورم ہول بابل کے مینار پر بنایا جا رہا تھا۔ وہیں سے ہر قسم کے جادو کی شاخیں پھوٹی وہیں سے ابتدائی فری میسنز کی بنیاد پر اور وہیں سے پراسراریت شروع ہوئی!
نمرود ہی پہلی حنوط شدہ لاش تھا سب سے پہلے اسی کو حنوط کیا گیا. وہ سب کرنے والے بھی اسکے بلا معاوضہ معمار فری میسن ہی تھے جن کو سیمیراس نے یہ عقیدہ پڑھایا تھا کہ نمرود دوبارہ جی کر اٹھے گا اور واپس آئے گا.
دنیا میں سب سے پہلی ممی نمرود تھا جس کی یہی ممی ہزاروں سالوں تک سب سے روپوش رہی. 20 ویں صدی کے اوائل سے ہی پوری فری میسنری آثار قدیمہ کے نام پر پورے مصر کا ریگستان چھان بیٹھی تھی. مگر اس کو تلاش کرنے میں ناکام رہی کہ مصری آثار قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر ظاہری ہواس نے بطور اتفاق نمرود کا مبینہ مقبرہ عین ابو لہول کے نیچے اور خوفو کے اہرام کے درمیان کھوج نکالا مگر ساری محنت کے بعد صرف یہ ملا کہ وہ جعلی مقبرہ تھا اور اس سے ایک شاہی تختی ملی جو اشوری زبان میں نمرود کی اصل قبر کا سب کچھ بتا رہی تھی. یہ واقعہ 1998 کا ہے.
اسی تختی کی رہنمائی میں دوبارہ سے بابل کا رخ کیا گیا. عراق جس پر صدام کی حکومت تھی عین 2002 میں جیسے ہی اسکے مقبرے کے آثار ملے تو پوری فری میسنری میں ہلچل مچ گئی. فری میسنز کو اس بابت ہر ممکنہ علم تھا کہ کیونکر نمرود کی لاش اتنی اہمیت کی حامل ہے.
2003 میں جب عراق پر حملہ ہوا. وہ اسی وجہ سے کیا گیا تھا کہ نمرود کی قبر باقاعدہ مل چکی تھی جیسے ہی یہ خبر پھیلی چند گھنٹوں میں عراق پر حملہ کا فیصلہ صادر ہوا. مسلہ لاش کے ساتھ ساتھ وہاں سے ملنے پراسرار 2 لاکھ کے قریب بابلی نوادرات کا تھا جس کی بابت فری میسنری پورے مصر کو تب تک کھود چکی تھی. جس میں وہ سب موجود تھا جس سے اسی نمرود جو کہ انکا مسیحا تھا اس نے دوبارہ جی اٹھنا تھا.
عراق پر حملہ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کے نام پر کیا گیا تھا یہی مقبرہ درحقیقت وہ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن تھا. آج بھی پوری دنیا میں امریکہ سے باہر سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ عین اسی مقبرے کے اوپر موجود ہے.
دجال نمرود کے ڈی این اے سے ٹیسٹ ٹیوب کر کے آئے گا کیونکہ یہودی کلوننگ کو کبھی نہیں مانیں گے اسی لیے موجودہ میڈیکل میں ٹیسٹ ٹیوب ہی واحد راستہ ہے.
یہ سب اس باب کا اختصار ہے جس کا نام نمرود ہے اور جو ہماری زیر تحریر کتاب کا سب سے اہم ترین باب ہو گا.
مختصر یہ کہ نمرود ہی پہلا دجال تھا اور آخری دجال بھی اسی کی نسل سے آئے گا.
تمیم داری رضی اللہ عنہ والی حدیث رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم کا معجزہ تھا. اس کو ادھر نہ ہم نے لانا ہے اور اسطرف جانا ہے. مقصد اپنے اصل دشمن کی پہچان ہے ہم نے اسے حاصل کرنا ہے. یہ سب کچھ آپکو پورے حوالہ جات کے ساتھ کتاب میں ہی ملے گا اسکی پر پہلو سے ہم ابھی بھی جانچ کر رہے ہیں. یہ قسط ادھر ہی اختتام پذیر ہوئی.

گلوب ارتھ بطور ایک عالمی سازش

گلوب ارتھ بطور ایک عالمی سازش

کئی لوگ یہ کہتے ملتے ہیں کہ ارے بھائی یہ زمین چاہے فلیٹ ہو یا گلوب  کیا فرق پڑتا ہے؟

اور یہ تم کیا کہتے پھرتے ہو کہ یہ گلوب زمین کے پیچھے ایک بہت بڑی عالمی سازش ہے؟

ارے بھائی اگر یہ سازش بھی ہوئی تو ایسا کیا کہ یہ سازش اتنے بڑے پیمانے پر رچائی جائے کچھ بات پلے نہیں پڑتی!

میں ان سب باتوں کا ایسے جواب دوں گا کہ اِن فری میسنز نے بڑی چالاکی سے   زمین کو ساکن اور  مرکز کائنات کے مقام سے ہٹاکر کامیابی کے ساتھ  ہم سب انسانوں کو   دونوں طرح سےفزیکلی اور میٹا فیزیکلی بھی مات دے دی ہے ہم سب کو ایک عظیم اہمیت کے حامل مقام سے ہٹا کر مکمل طور پر فتنہ انگیزی سے بھرے بے حسی کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔

اگر زمین کائنات کا مرکز ہو، تو وہاں پر اللہ کے ربِ کائنات اور خالق و مالک ِ کُل ہونے کے تصورات ہوں گے، اُس کی تخلیق اور انسانوں کو بنائے جانے کا مقصدجیسی بنیادی باتیں پھلیں پھولیں گیں۔ لیکن اگر زمین کو صرف ایک ایسا سیارہ مان لیا جائے جو کئی بلین سیاروں میں سے ایک سیارہ ہے جو کئی بلین ستاروں میں سے ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے اور وہ ستارہ کئی بلین کہکشاؤں میں سے ایک کہکشاں میں محوِ گردش ہے، تو ایسی بد قسمت جگہ  پر اللہ وحدہ لاشریک  کے  خالق کائنات ہونے کے تصورات، اُس کی تخلیق ، انسانوں اور زمین کو تخلیق کرنے  کے خاص مقصدجیسی باتیں  با لکل نامعقول اور بے وجہ  سی ہو کر رہ جائیں گی۔ ایسا ہی خطرناگ رحجان آ ج کے جدید مادہ پرستی کے دور میں ہر جگہ دیکھنے  کو ملتا ہے۔

 بڑے پراسرار طریقے سے ہم انسانوں میں سائنسی مادہ پرستی اور سورج کی پوجا  کو متعارف کرایا گیا ہے،جس کی وجہ سے ہم نے مادیت کے علاوہ ہر شے پر سے ایمان کھو دیا ہے بلکہ ہم کو صرف مادہ پرستی،سطحی جاہ و جلال، خود غرضی،لذدیت اور کنزیومرازم پر ہی ایمان رکھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اگر کوئی خالق (اللہ) نہ ہو اور سب کا سب صرف ایک حادثے کی وجہ سے ہی بنا ہو تو صرف میں ، میں اور صرف میں ہی رہ جاتا ہے۔ اُنھوں نے میڈونا کوایسی مدر آف گاڈ بنا ڈالاجو ایک مادہ پرست عورت ہے اور مادہ پرستی کی دُنیا میں رہتی ہے۔ اُ ن کی امیر ترین اور طاقتور کارپوریشنز جو واضح سورج کے پجاریوں کے لوگو سجائے ہوئے ہیں، اُنھوں نے ہمیں ایسے بُت بچنے میں کامیاب رہے جن کی پوجا ہو سکے اور آہستگی سے پوری دُنیا پر قابض ہو گئے جبکہ اُسی اثناء ہم خاموشی سےاُن کی ‘سائنس’ پر یقین کرتے رہے اُنکے سیاستدانوں کو ووٹ دیتے رہے،اُ ن کی اشیاء خریدتے رہے، اُن کا میوزک سنتے رہے اور اُن کی بنائی فلمیں دیکھتے رہے۔ اپنی روحوں کو اُن کی مادہ پرستی کی قربان گاہ پر قربان کرتے رہے۔ اِسی پر مورِس کلائن کا بات یاد آ گئی کہ:” ہیلیوسنٹرک تھیوری میں سورج کو مرکزِ کائنات ماننے سےہم نے انسان کو ایک ایسا گداگر بنا ڈالا ہے جو ٹھنڈے آسمان میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اب یہ کم  ہی ممکن رہا ہے کہ جس انسان کو عظمت کے ساتھ رہنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا اوراُس کے مرنے پر جنت کا حصول ممکن تھا۔ اس بات کا بھی کم ہی امکان رہ گیا ہے کہ وہ خالق (اللہ) کی فرمانبرداری کا ایک نمونہ ہوتا۔”

شائد کسی کو میری بات سمجھ آ جائے اور وہ اِس مادہ پرستی کی نیند سے جاگ کر اپنے خالق کی تخلیقات پر نئے سِرے سے غور و غوض کرے۔ اپنی اور کم از کم اپنے گھر والوں کی ہی اصلاح کر لے۔ جاگ جا ا ے انسان ابھی وقتِ تیاری بھی ہے اور وقتِ امتحان بھی کل جب امتحان کا نتیجہ آئے گا تو اگر رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کر رہا ہو گا تو بہت پچھتائے گا بہت پچھتائے گا