کے وائے ای سیریز کی پہلی پوسٹ

نوٹ،یہ پوسٹ اپریل 2018 میں پہلی بار جاری کی گئی تھی

یہ پوسٹ کے سلسلے کا کوڈ نیم کے وائے ای ہو گا۔ تاکہ سب ممبران کو گروپ سرچ میں تلاش کرنے میں آسانی ہو۔

انگریزی کا ایک مشہور معقولہ ہے Know Your Enemy کہ اپنے دشمن کو پوری طرح جانو پھر اسے شکست دینے کی منصوبہ بندی کرو.
چونکہ ہم نے شروع میں یہ کہہ دیا تھا کہ نہ ہم کبھی جھوٹ بولیں گے نہ بولنے دیں گے اور یہ کہ فلیٹ ارتھ خالی زمین کی ہئیت کی بابت بحث نہیں بلکہ عالمی استعمار کی پوری طرح سمجھ ہے. اسی وجہ سے ہم آج سے وہ کام کرنے جا رہے ہیں جو آج سے پہلے کسی بھی فلیٹ ارتھ فورم نے ابھی تک نہیں کیا کہ ون ورلڈ ون گورنمنٹ جس کے موجد اور مدافعين فری میسنز ہیں انکی اپنی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اس کے اہم نکات عوام کے سامنے لائے جائیں.

فری میسنز وہ تحریک ہے جسکے اندر ایک منظم ڈھانچہ ہے جو 1 ڈگری سے شروع ہو کر 32 ڈگری تک جاتا ہے. اسکے بعد 33 ڈگری آتی ہے جو سب فری میسنز کے باسسز کا مقام ہے. ان ڈگریز جو کہ حقیقت میں عہدے ہیں ان کی بابت بھی کلام چلتا رہے گا.

یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کو نہ تو کتابیں پڑھنے کا شوق رہا اور نہ ہی ان کو تلاش کرنے کا. جبکہ آج ہر کتاب کوشش کر کے تلاش کی جا سکتی ہے اور اپنے حقیقی علم کو استعمال کرتے ہوئے اس کے سورس اور حقیقی سمجھ کی گہرائیوں تک جایا جا سکتا ہے.
میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ میں مسطحتی سے پہلے تیکنیکی اعتبار سے ایک قسم کا فری میسن ہی تھا وہ اس وجہ سے کہ ماضی میں فری میسنز کو جوائن کرنے کی غرض سے میں نے نہ صرف داخلہ فارم بھیجا تھابلکہ انٹرویو بھی دے دیا تھا. جو احباب اس بابت جانتے ہیں کہ انٹرویو کس کا کیا جاتا ہے وہ جانتے ہوں گے کہ اسی انٹرویو کے لیے پہلے بہت سا مواد پڑھ کر اسی انٹرویو کی تیاری کرنا ہوتی ہے. ہم نے وہ سارا مواد نہ صرف پڑھا بلکہ یاد بھی رکھا. ٹائم بارڈر ڈیجٹل فائلوں کی شکل میں وہ مواد امیدوار کو ایک مخصوص وقت میں تیاری کے لیے دیا جاتا ہے. احباب گواہ ہیں کہ ماضی قریب میں فری میسنری کے دروازے سے واپس ہوا تھا. اسکی وجہ صرف ایک تھی کہ یہ پہلے سے امید وار کو کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ ون وے ٹکٹ ہے اگر آپ آ گئے تو مر کر ہی واپس جا سکتے ہیں اور جب تک زندہ ہیں تب تک فری میسن ہیں اور آرڈر کے جاری کردہ تمام قوانین آپ پر لاگو ہیں.
سب سے بڑا مسئلہ میرے لیے واپس ہونے کی وجہ یہ تھا کہ ٹھیک 10 ڈگری کے بعد جو کچھ ہوتا ہے اس میں سب سے پہلے ایمان ہی جاتا ہے.
یہ بات آپ خود پکڑ لیں تو پکڑ لیں آپکو کبھی نہیں بتائی جائے گی. اب میں اس پوسٹ کے مدعے کی طرف آتا ہوں.
فری میسنز میں ہر فری میسن کا کوڈ آف کنڈکٹ ہوتا ہے اصل مصدر اور بنیاد York Rite freemasonry ہے جس کا آئین البرٹ پایئک 33 ڈگری ماسٹر فری میسن نے باقاعدہ کتاب کی شکل میں جاری کیا تھا. اس کتاب کا نام Morals and Dogma ہے. مطلب اخلاقیات اور تعلیمات. کہنے کو یہ وہ کتاب ہے جو عام انسان کی سمجھ سے اوپر ہے. اسکی وجہ اسکی کوڈنگ ہے جسے وہی کھول سکتا ہے جو فری میسن ہو یا فری میسن کے بنیادی اور حقیقی تعامل خود سے کر چکا ہو. میں اپنے احباب کی بابت چاہتا ہوں کہ وہ اپنے اصل دشمن فری میسن کو پہچانیں اور اسکو پوری طرح سے سمجھیں.
اسی وجہ سے آج سے ایک سلسلہ شروع کیا جارہا ہے جس میں فری میسنری کی ہر ڈگری کی بابت بنیادی سمجھ اور اسکے اہم نکات بطور ثبوت جو کہ فری میسن مصدر کے سکرین شاٹ ہونگے وہ بھی پوری سمجھ کے ساتھ پیش کیے جائیں گے.
اس فورم کے غیر سنجیدہ ممبران سے درخواست ہے کہ وہ اس فورم سے ہماری اس پوسٹ کے بعد خود ہی تشریف لے جائیں ہمیں آپکی بالکل ضرورت نہیں ہے.
ہمارا مشن ہماری ذات سے بہت ارفع ہے ہم آپ لوگوں کے ساتھ لا حاصل بحث میں وقت بالکل برباد نہیں کرنا چاہتے. اس فورم کے تمام ایڈمنز مارک کر لیں سب ٹرولز آپ سب کو معلوم ہیں. جو چھپے ہیں جیسے ہی سامنے آئیں تو اس پوسٹ کی رو سے آپ انکو بنا وارننگ جاری کیے گروپ بدر کرنے میں آزاد ہیں.
لہذا وہ ممبران جو انڈاکٹرینینشن سے جاگ چکے ہیں وہ اب سے اپنے لیول کو بڑھائیں اور آگے بڑھیں یاد رکھیں آپ کا مقابلہ اس دشمن سے ہے جو ہر طرح کی اعلی ترین اخلاقی اقدار کا آپس میں پوری طرح پاس رکھتا ہے مگر ٹاپ لیول پر انسانیت کا خون نچوڑ کر اپنے ڈھانچے کو زندہ رکھتا ہے. یہ وہ دشمن ہے جو کبھی جھوٹ کو برداشت نہیں کرتا مگر ٹاپ لیول پر جھوٹ بولنا لازم جانتا ہے.
یہ وہ دشمن ہے جس کے ممبر بننے کے تین بنیادی اصول ہیں
You should have high moral values
You should sacrifice your self for your rite
You should believe A creator of this intelligent design.
تیسرے اصول پر پریشان مت ہوں یہ شروع میں آپ کے مذہب کے مطابق ہی ہوتا ہے جسے مسلمان کے لیے اللہ. عیسائی اور یہودی کے لیے یہووا
مگر جیسے ہی آپ 10 ڈگری پار کرتے ہیں تو یہ عقیدہ بڑی آہستگی سے ختم کیا جاتا ہے کہ 32 ڈگری تک وہ سپریم بینگ، ون کریٹر ابلیس لعین اور اسکی انسانی شکل أرض کا پہلا فری میسن خدا نمرود لعین بن جاتا ہے 32 ڈگری اور اسکے آگے اسی کی پوجا کی جاتی ہے اس بابت بہت کچھ آگے آئے گا.
یاد رکھیں فری میسنری کی بنیادی شرائط بہت اہم ہیں اسکو جاننے کے لیے.
باقی جو آپ کے سوالات و اشکالات اس پوسٹ کی بابت ہوں آپ پوچھ سکتے ہیں. ہر ممکن جواب پوری سچائی کے ساتھ دیا جائے گا. جس بات کا ہمیں نہیں پتہ ہو گا سلف کے منہج تعامل لا ادری پر ہمیشہ کی طرح عامل رہیں گے ان شاءاللہ
اپنی ذات سے باہر نکلئے اور دوسروں کے لیے جینا سیکھیں کہ آپ کو جسد واحد کی طرح امت مسلمہ کا دفاع کرنا ہے.
اپنے آپکو اپنے اصلی دشمن فری میسن کی اعلی اخلاقی اقدار جو کہ حقیقت میں آسمانی و الہامی اقدار ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا ایک دوسرے کی مدد کرنا اور مالک حقیقی اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان کو ہر صورت میں اپنے آپ کے اوپر لاگو کرنا ہے. تن آسانی سے کبھی کچھ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے جو سو رہا ہے اسے جگائیں ضرور مگر اپنا وقت اس پر برباد مت کریں بلکہ آگے بڑھیں اور کئی سوئے ہوئے آپکے منتظر ہیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم کے سچے دین پر جینے اور مرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو باعمل اور اعلی اخلاقی اقدار کا عامل مسلمان بنائے. آمین ثم آمین
سب مسلمانوں کے لئے دعائے خیر کی خصوصی اپیل
حافظ أبو تیمیہ الاندلسی.

میسنری کے دس احکامات

کے وائے ای سیریز

دس احکامات (the Ten commandments )

یہ ذکر گذر چکا کہ فری میسن ایک مضبوط مذہب ہے جو سوائے ملحد کے ہر مذہب کے ماننے والے کو لے سکتا ہے مگر کوئی بھی ملحد کسی صورت فری مسین نہیں بن سکتا۔ یہ بھی بین ہے کہ فری میسن مذہب اصل میں شروع سے لے کر اسلام تک گذرے مذاہب کا ایک متنجن ہے۔ جس میں غالب عنصریہود کبالسٹ کا ہے کبالسٹ یہود کا سب سے ایلیٹ فرقہ ہے جن کے ہاں عام یہود کا وہی مقام ہے جو یہود کے ہاں باقی مذاہب کے ماننے والون کا۔ مگر فری میسن میں ایسا بالکل نہیں ہے ہر وہ آدمی جو فری مسین بن گیا وہ اپنی ڈگری کے لحاظ سے ان کے درمیان عزت و تقریم پاتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔

ابھی تک پہلی ڈگری جاری ہے جس کے شروع میں ہی فری مسین کو بنیادی دس احکامات سکھا دیے جاتے ہیں۔
یہ وہی احکامات ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ہر الہامی مذہب میں مشترکہ ہیں۔ اسی مقام سے پہلی ڈگری پر موجود فری مسین کو ان دس احکامات کا ہر صورت پاس، لحاظ اور ان سے وفادار رہنا لازم ہو جاتا ہے۔
اُن دس احکام کو سکرین شاٹ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ من و عن ہبرو بائبل میں ذکر کردہ دس احکام ہیں۔ مگر اصل مسلہ ادھر ہی سے شروع ہو جاتا ہے کہ یہ کون سا رب ہے؟ وہ رب جو آدم و ابراہیمؑ والا ہے یا وہ جسے فری میسن 30 ڈگری پر جا کر آشکار کرتے ہیں۔
ان کے ہاں سپریم بینگ یہی لگتا ہے کہ وہی ہے جو حقیقت میں مالک کائنات اللہ تعالیٰ ہے۔ مگر جیسے ہی 30 ڈگری آتی ہے تو یارک رائٹ میں باقاعدہ طور ہر یہ آشکار ہوتا ہے کہ نہیں وہ رب نہیں ہے بلکہ لوسیفر جو انسانی شکل میں سب سے پہلے نمرود کی شکل میں آیا تھا یہ وہ رب ہے۔
یاد رہے جس نے نمرود کی بابت دھوکہ کھایا وہ اصل کھیل کو ہی سمجھنے سے قاصر رہا۔ نمرود وہ پہلا انسان تھا جس نے اپنے منہ سے اپنے رب ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے کسی انسان کی یہ جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنے منہ سے اپنے آپ کو رب کہہ سکے۔
نمرود ہی اصل میں فری مسین کے ہاں رب ہے مگر اس کا پتہ جب فری مسین کو چلتا ہے تب تک وہ 30 ڈگری پر ترقی پا چکا ہوتا ہے اور شروع میں نظر آنے والے ایک خالص توحیدی مذہب کی بجائے وہ براہ راست نمرود سے جُڑتا ہے جو درحقیقت ابلیس لعین کی ایک شکل جسے وہ لوسیفر کہتے ہیں مطلب روشنی کا فرشتہ۔ فری میسن میں روشنی علم کو کہا جاتا ہے بصیرت کو کہا جاتا ہے۔ ان کے ہاں یہ شروع میں وعدہ کیا جاتا ہے کہ آپ کو وہ علم و بصیرت ملے گی جو دنیا کے کسی بھی مذہب کی تعلیم سے نہیں مل سکتی۔ وہ علم و بصیرت درحقیقت وہی ہے جو شیطان نے انسان کو سکھایا تھا۔ اس میں اتنا کچھ ہے کہ اگر ابھی لکھنا شروع کیا تو اس سیریز کا مقصد کہ اپنے دشمن کو پوری طرح سمجھا جائے وہ ہی فوت ہو جائے گا۔
اسی لیے ابھی کے لیے جو پہلی ڈگری میں سکھایا جاتا ہے اسی پر کلام جاری ہے۔ فری میسن اپنی 29 ڈگری تک اپنے 5 بنیادی اصولوں پر ہر صورت کاربند رہتے ہیں۔ تا کہ وہ 30 ڈگری پر جا کر وہ پراڈکٹ تیار کر سکیں جس کسی بھی وقت کسی بھی صورت ان کے منصوبے کو عملی جامہ بلا تامل پہنا سکے۔ اسی لیے کوئی عورت کسی صورت فری میسن نہیں بن سکتی کہ وہ کبھی بھی پلٹا کھا سکتی ہے۔ مگر صرف مرد ہی فری میسن بنتا ہے۔ 30 ڈگری فری میسن کوئی عام لوگ نہیں ہوا کرتے۔ بڑے بڑے سیاستدان وہ بھی ہر کوئی نہیں بلکہ ہزاروں میں سے ایک۔ اُن کو اس عہدے تک لایا جاتا ہے۔
آپ کے کرنے کا کام اپنی اپنی تحقیق کریں کہ اب تک گذری سیریز میں بتائے گئے اصولوں پر آپ کی ںظر میں کون کون سا سیاستدان پورا اترتا ہے۔ وہ پانچ اصول پہلے جاری کئے جا چکے ہیں۔ ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ کو جب پتہ چلے اُس کے ہر پہلو پر غور کریں کہ وہ کون کون ہیں۔ سیاستدان اس لیے کہ نیو ورلڈ آرڈر کے بعد صرف سیاستدانوں کے لیے 30 ڈگری اور اُس سے اوپر کے عہدے مختص ہیں۔ باقی سب اس سے نیچے رہتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ یاد رہے سیاست دان صرف سیاست دان نہیں ہر وہ بندہ جس کے ہاتھ میں عوامی طاقت ہے یا آ سکتی ہے یا اس کا عہدہ اس کا متقاضی ہے وہ سب اس میں شامل ہیں۔ باقی آپ سب خود سمجھدار ہیں!۔

https://photos.app.goo.gl/HwW3yob1k7Jcb3fm2

کے وائے ای سیریز، عقیدہ تثلیث

کیا یہ اتفاق ہے کہ عقیدہ تثلیث گھڑا گیا ہو؟
نہیں بالکل نہیں یہ اتفاق نہیں بلکہ ہم سے چھپا دی گئی وہ تاریخی حقیقت ہے جس پر کم ہی غور و تحقیق کی جاتی ہے۔ اس پر ایک بہترین محقق پروفیسر لنگڈن نے کافی کام کیا تھا مگر اس کا مطمع نظر صرف بابل تھا۔ ہم نے اس پر اُسی پہلو سے مزید تحقیقات کی اور خرگوش کے سرنگ میں مزید گہرائی تک چلتے گئے۔

اور اس گہرائی میں جو ملا آپ اسے ہی پڑھ رہے ہیں لف کی گئی تصویر میں موجود ٹیبل کو غور سے پڑھیں یہ کوئی اتفاق نہیں وہ کڑوی حقیقت ہے جس پر کبھی ہم نے غور ہی نہیں کیا کہ جبکہ طوفان نوح میں ساری زمین کا صفایا کر دیا گیا تھا تو کیسے بعد میں دوبارہ سے شرک اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت ابلیس نے نمرود کے ذریعے ہی کرائی تھی۔ مگر اس بار فرق یہ تھا کہ بجائے کسی کے بت کو پوجا جائے بلکہ اُس کو سامنے کر دیا جائے۔ 
نمرود نے اپنی بہن جو اسکی ماں بھی تھی اور پھر اسکی بیوی بھی بنی سمیراس / ایشتار اسی سے اپنے پیدا ہونے والے بیٹے تاموز سمیت اپنی خاندانی مثلث کو بطور معبود بطور مسیحا انسانیت اور بطور رب پوجنے کا حکم صادر کیا۔

ابھی اسی کو سمجھیں کہ کیسے جب اس کی قوم پوری زمین پر بھیلی تو وہ اپنے ساتھ اپنے معبودانِ باطلہ کو بھی لے گئی جس علاقے میں جا کر آباد ہوئی اپنی اپنی زبان اور اپنے اپنے طریقے سے ان تینوں کو ہی پوجتی رہی۔ 
سوڈو تاریخ تو ہمیں کہانی سناتی ہے کہ انسان ہزاروں سال پہلے دنیا کے مختلف حصوں میں آباد ہوا وہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ طوفان نوح کا ذکر ہر قوم ہر مذہب میں موجود ہے کہ پوری دنیا کا صفایا ہو گیا تھا پھر نوحؑ کے تینوں بیٹوں سے نسل انسانی کا احیاء ہوا تھا۔ چونکہ سوڈو سائنس ہر صورت میں مذہب کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتی ہے تو اس نے ہر ممکنہ طور پر اس اہم نکتے پر پردہ ڈال رکھا ہے۔

عقیدہ تثلیث ہی طوفان نوح کے بعد شرک اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی بنیاد ہے۔ اسی کے دلیل کے طور پر آپ دیا گیا چارٹ بار بار اور عمیق سمجھ کی مدد سے دیکھیں۔ آپ کو ساری پراسراریت آپ کے سامنے کھلتی مل جائے گی۔

انگریزی زبان بھی صرف زبان نہیں بلکہ پوری گماتریا کی بنیاد پر بنائی گئی تھی۔ قدیم ترین یورپی تہذیب سکینڈے نیون وائی کنگ تھی۔ جس کے زبان کی بنیاد پر انگریزی زبان بنائی گئی یہ بھی ایک الگ سے بہت ہی وسیع اور پراسرار موضوع ہے۔ دلیل کے لیے صرف ہفتوں کے ناموں پر اکتفا کرتے ہیں باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

Sunday= Sun’s Day
Monday = Moon’s Day
Tuesday = Twi’s Day (Mars Day)
Wednesday = Odin’s Day (Nimrod)
Thursday = THOR’s Day (Tammuz)
Friday = Freyda’s Day (ISIS’ Day) (Simmiras / Ishta’s day)
Saturday = Saturn’s Day

عقیدہ تثلیث کا مختلف مذاہب میں مصدقہ وجود

کے وائے ای سیریز، نمرود

کہنے کو بابل کا بادشاہ تھا. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اسی لعین کا مناظرہ ہوا تھا. اسی نے ابو ا النبیاء علیہ السلام کو آگ میں ڈلوایا تھا. مگر اس کا ہماری اس سیریز سے کیا لینا دینا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں سارے راز چھپے ہیں. نمرود وہ پہلا انسان تھا جس نے خود کو رب کہا تھا اس سے پہلے کسی کی جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ یہ دعویٰ کر سکے. رب ہونے کے تمام لعین دعویدار نمرود کے بعد ہی ہوئے ہیں. یہ پہلا تھا. مگر اس کی اہمیت اس وجہ سے بہت زیادہ ہے کہ اس نے ایسے بہت سے کام کیے تھے جن کا اثر ہمیشہ کے لیے انسانوں پر پڑ گیا اور آج بھی جاری ہے اور دجال. لعین تک جاری رہے گا.
اس انسان پر بہت ہی کم تحقیق کی گئی ہے مگر جس نے بھی کی ہے اس کی تحقیق ایک ایسے اہم نکتے تک گئی ہے جہاں پر ساری گتھیاں اپنے آپ. سلجھ جاتی ہیں وہ نکتہ ہے دنیا کے بڑے مذاہب اور تہذیبوں میں تین کرداروں کا.
باپ، بیٹا، اور ماں
آپ اگر خود سے تحقیق کریں گے تو حیرت انگیز طور پر اسلام کے علاوہ ہر مذہب و تہذیب میں یہ تین بنیادی کردار پائیں گے. فری میسنز کے ہاں نمرود رب کا اوتار ہے اور فری میسنز کی 29 ڈگری تک فری میسن کے لیے وہی رب ہوتا ہے جو اسکے مذہب نے بتایا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی 30 ڈگری کا حلف اٹھاتا ہے تو اسکے سامنے حقیقی رب کی گھتی کھولی جاتی ہے کہ نہیں اصل رب لوسیفر ہے جو علم کی روشنی کا منبع کا جس کی انسانی شکل میں نمرود زمین پر آیا تھا.
چونکہ البرٹ پائیک مورل اینڈ ڈوگما میں اسی پر کھل کر لکھ گیا تھا تبھی جدید فری میسنز ظاہری طور پر اپنی اس مصدری کتاب سے بیزاری کرتے ہیں مگر حقیقت میں یہ انکا کوڈ آف کنڈکٹ ہے.
نمرود کی بابت ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس نے بابل کا مینار بنوایا تھا یہ مینار کیوں بنایا گیا تھا کبھی آپ نے اس پر سوچا؟
اس کے معمار ابتدائی فری میسن کہلائے جنہوں نے اپنے آپ کو پوری طرح سے نمرود کے لیے وقف کر دیا تھا. ایک بات یاد رہے نمرود طوفان نوح کے بعد سب سے پہلے انسانی آبادی سب سے پہلی سلطنت کا مطلق العنان بادشاہ تھا. اس لعین کی ایک اور اہم بات کہ اس نے اپنی بہن سے شادی کی تھی جو اس کی حقیقی ماں بھی تھی. اسکا بابلی نام ایشتا تھا. یہ وہی ایشتا ہے جس کے یوم پیدائش کے طور پر آج بھی عیسائی اپنے دین سے جہالت کی بنیاد پر ایسٹر مناتے ہیں یہ اسی ایشٹا کا یوم پیدائش ہے. 25 دسمبر عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش نہیں بلکہ درحقیقت نمرود کا یوم پیدائش ہے. یہ سب عیسائیت میں پولس یہودی نے جو ایک کبالسٹ ربی تھا بظاہر عیسائی پوپ بن کر بڑی عیاری سے کونسل آف نیسیا کے ذریعے اور قسطنطین کی آشیرباد سے عیسائیت پر نافذ کر آ گیا.
نمرود، ایشتا اور ان کا بیٹا تاموز یہ تینوں حقیقی طور پر اسلام کے علاوہ ہر مذہب ہر تہذیب میں آج تک پوجے جاتے ہیں. فری میسنز کہنے کو 300 سال پرانے ہیں مگر جب ہم انکی مصادر کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں یہ کلام فخر سے ملتا ہے کہ ہم ہی وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے اوتار نمرود کے لیے وہ عظیم الشان مینار تعمیر کیا تھا.
پہلے اس مینار کی بابت بھی کچھ پڑھ لیں. تلمود، فری میسن مصادر اور بائبل میں جو اسکی بابت ہے وہ آپس میں کافی متضاد ہے.
تلمود میں اسے انسانوں کی پہلی درسگاہ کہا گیا ہے. جبکہ حقیقت میں یہ مینار ابلیس لعین کی رہنمائی میں تعمیر کیا گیا تھا.
فری میسنری میں بھی اسے انسانوں کی پہلی عظیم الشان درسگاہ اور پارلیمنٹ کہا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ فری میسنری کا زمین پر سب سے پہلا لاج تھا.
بائبل کے عہد نامہ قدیم کی کتاب جینیسز اور جاشر میں اس مینار کی بابت چشم کشا انکشافات اختصار میں بیان ہوئے ہیں. بائبل کے لیے میں ہمیشہ کنگ جیمز ورژن استعمال کرتا ہوں کیونکہ موجودہ دور میں اگر کسی بائبل کے نسخے کے چرچ خلاف ہے اور باقی نسخوں کے مقابل کو نسخہ کم تحریف شدہ ہے تو وہ یہی نسخہ ہے.
بائبل میں جاشر اور جینیسز کا اختصار کچھ اسطرح ہے.
نمرود وہ پہلا تھا جس نے خود کو خدا کہا.
نمرود وہ تھا جس نے طوفان کے بعد پہلی عظیم سلطنت بنائی.
نمرود کنعان کا بیٹا اور حام بن نوح کا پوتا تھا.
کنعان طوفان کے دوران کشتی پر ہی پیدا ہوا تھا.
کنعان طوفان سے پہلے زمین پر. موجود جسیم و طاقتور ترین انسانوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا. جن کے بڑے بڑے قد ہوتے تھے اور بہت ہی طاقتور اور جسیم ہوتے تھے خاص نشانی انکے ہاتھ اور پاؤں کی چھ انگلیاں ہوتی تھیں.
حام کی وفات کے بعد جب دوبارہ انسانوں میں فساد شروع ہوا تو اسی کنعان نے شام و فلسطین کے قدیم علاقوں پر مشتمل کنعانی سلطنت کی بنیاد رکھی اور اپنی بہت ہی ذہین بیٹی ایشتا سے شادی کی جس سے نمرود پیدا ہوا. جسکے بچپن میں ہی کنعان مر گیا اور ایشتا نے ہی نمرود کے جوان ہونے تک بطور حکمران اس سلطنت کو. مستحکم کیا اور نمرود کے باقاعدہ بادشاہ بننے پر اس سے شادی کی جس سے نمرود کا جانشین تاموز پیدا ہوا.
نمرود نے کنعانی سلطنت کو وسعت دی اور مصر کے علاقے کو آباد کیا اور. پہلی. مصری تہذیب کی بنیاد بھی بابل ہی کی طرز ہر رکھی. جیسے بابل فرات کے کنارے تھا عین ویسے ہی مصر نیل کے کنارے آباد کیا. یہی اس وقت کی معلوم دنیا اور اکلوتی سلطنت تھی.
بائبل کے ہی. مطابق نمرود جب طاقت میں بہت بڑھا تو سرکشی میں بھی ہر حد پار کر گیا اور اس نے بابل کے مینار کو بنوانا شروع کیا.
جس کا مقصد جاشر کے مطابق یہ تھا.
نمرود نے اپنی تین طاقتور جماعتیں تیار کیں سب کو الگ الگ کام سونپے.
پہلی کا. کام جب مینار مکمل ہو. جائے تو تم آسمان پر چڑھ کر وہاں موجود رب کو مار دینا. (نعوذ باللہ )
دوسری جماعت کا کام کہ جب مینار مکمل. ہو جائے تو تم آسمان پر چڑھ کر زبردست جنگ لڑنا اور سب کو مار ڈالنا.
تیسری جماعت انہی معماروں کی تھی جو اسکے پروہت بھی تھے انکا کام یہ سونپا گیا کہ جیسے ہی ہم آسمان پر چڑھ کر جنگ شروع کریں تو تم سب فورا ہمارے بت پورے آسمان میں رکھ دینا کہ باقی فرشتے نمرود کو رب مان کر پوجنا شروع کر دیں. مگر اللہ یہ سب جانتا تھا اور انکو برے منصوبے بناتے دیکھ رہا تھا.
جاشر میں ہی اس سے آگے لکھا ہے کہ،
جیسے ہی مینار مکمل ہوا تو اللہ نے ان پر عذاب بھیج دیا کہ وہ ایک زبان بولنے والے ایک مضبوط جماعت کے حامل 70 اجنبی زبانوں میں منقسم ہو گئے اور ایک دوسرے سے اجنبی ہو گئے اور انکی ہوا اکھڑ گئ اور سب منتشر ہو گئے.
یہ تو تھا بائبل میں لکھا اس بابت اختصار.
اب اگر ہم اس کی گہرائی میں جانا چاہیں کہ اس سے آگے کیا ہوا تھا تو وہ بائبل کے عہد نامہ قدیم میں اشارۃ اور تلمود و فری میسنرز کے مصادر میں تفصیل سے ملتا ہے.

مینار پر آئے عذاب کے نتیجے میں قومِ نمرود پوری زمین پر کدھر کدھر اور کیسے آباد ہوئی؟

لنک پوسٹ میں آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ کیسے طوفان نوح کے بعد پوری زمین پر انسان ہر ممکنہ جگہ پر جا کر آباد ہوئے۔

اب کچھ مزید بابل کے مینار کی بابت کہ وہ مینار بالکل اتنا اونچا نہیں تھا کہ اس پر چڑھ کر آسمان پر جایا جا سکتا بلکہ ابلیس لعین نے نمرود کو اور اُس کے پروہتوں فری میسنز کو وہ ہر ممکنہ جادو سکھایا تھا جس کی مدد سے آسمان پر چڑھا جا سکتا تھا مگر چونکہ آسمان پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بنا کوئی نہیں چڑھ سکتا تو ابلیس نے قوم نمرود کو بھی وہ دھوکہ دیا۔ جس کا وہ شکار ہو کر عذاب الہی میں مبتلا ہوئے۔
جدید سائنس جسے ورم ہول کہتی ہے یہ وہی بابل کا جادو ہے جس پر یہود کبالسٹ اور فری میسنز کو پوری دسترس حاصل ہے۔ ورم ہول کی بابت یہی تھیوری ہے کہ اس میں فاصلہ اور وقت مُڑ کر مختصر ترین ہو جاتا ہے یہی ورم ہول بابل کے مینار پر بنایا جا رہا تھا۔ وہیں سے ہر قسم کے جادو کی شاخیں پھوٹی وہیں سے ابتدائی فری میسنز کی بنیاد پر اور وہیں سے پراسراریت شروع ہوئی!
نمرود ہی پہلی حنوط شدہ لاش تھا سب سے پہلے اسی کو حنوط کیا گیا. وہ سب کرنے والے بھی اسکے بلا معاوضہ معمار فری میسن ہی تھے جن کو سیمیراس نے یہ عقیدہ پڑھایا تھا کہ نمرود دوبارہ جی کر اٹھے گا اور واپس آئے گا.
دنیا میں سب سے پہلی ممی نمرود تھا جس کی یہی ممی ہزاروں سالوں تک سب سے روپوش رہی. 20 ویں صدی کے اوائل سے ہی پوری فری میسنری آثار قدیمہ کے نام پر پورے مصر کا ریگستان چھان بیٹھی تھی. مگر اس کو تلاش کرنے میں ناکام رہی کہ مصری آثار قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر ظاہری ہواس نے بطور اتفاق نمرود کا مبینہ مقبرہ عین ابو لہول کے نیچے اور خوفو کے اہرام کے درمیان کھوج نکالا مگر ساری محنت کے بعد صرف یہ ملا کہ وہ جعلی مقبرہ تھا اور اس سے ایک شاہی تختی ملی جو اشوری زبان میں نمرود کی اصل قبر کا سب کچھ بتا رہی تھی. یہ واقعہ 1998 کا ہے.
اسی تختی کی رہنمائی میں دوبارہ سے بابل کا رخ کیا گیا. عراق جس پر صدام کی حکومت تھی عین 2002 میں جیسے ہی اسکے مقبرے کے آثار ملے تو پوری فری میسنری میں ہلچل مچ گئی. فری میسنز کو اس بابت ہر ممکنہ علم تھا کہ کیونکر نمرود کی لاش اتنی اہمیت کی حامل ہے.
2003 میں جب عراق پر حملہ ہوا. وہ اسی وجہ سے کیا گیا تھا کہ نمرود کی قبر باقاعدہ مل چکی تھی جیسے ہی یہ خبر پھیلی چند گھنٹوں میں عراق پر حملہ کا فیصلہ صادر ہوا. مسلہ لاش کے ساتھ ساتھ وہاں سے ملنے پراسرار 2 لاکھ کے قریب بابلی نوادرات کا تھا جس کی بابت فری میسنری پورے مصر کو تب تک کھود چکی تھی. جس میں وہ سب موجود تھا جس سے اسی نمرود جو کہ انکا مسیحا تھا اس نے دوبارہ جی اٹھنا تھا.
عراق پر حملہ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کے نام پر کیا گیا تھا یہی مقبرہ درحقیقت وہ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن تھا. آج بھی پوری دنیا میں امریکہ سے باہر سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ عین اسی مقبرے کے اوپر موجود ہے.
دجال نمرود کے ڈی این اے سے ٹیسٹ ٹیوب کر کے آئے گا کیونکہ یہودی کلوننگ کو کبھی نہیں مانیں گے اسی لیے موجودہ میڈیکل میں ٹیسٹ ٹیوب ہی واحد راستہ ہے.
یہ سب اس باب کا اختصار ہے جس کا نام نمرود ہے اور جو ہماری زیر تحریر کتاب کا سب سے اہم ترین باب ہو گا.
مختصر یہ کہ نمرود ہی پہلا دجال تھا اور آخری دجال بھی اسی کی نسل سے آئے گا.
تمیم داری رضی اللہ عنہ والی حدیث رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم کا معجزہ تھا. اس کو ادھر نہ ہم نے لانا ہے اور اسطرف جانا ہے. مقصد اپنے اصل دشمن کی پہچان ہے ہم نے اسے حاصل کرنا ہے. یہ سب کچھ آپکو پورے حوالہ جات کے ساتھ کتاب میں ہی ملے گا اسکی پر پہلو سے ہم ابھی بھی جانچ کر رہے ہیں. یہ قسط ادھر ہی اختتام پذیر ہوئی.