گلوب کرویچر ڈیبنک

زمین گلوب نہیں ایک فلیٹ پلین ہے۔

اکثریہ دعوی عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ چونکہ سمندر پر کشتیاں اُفق پر غائب ہو جاتی ہیں اور وہ اِسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ کشتیاں زمین کےمبینہ کرویچر کے نیچے چلی جاتی ہیں۔ اُسی کی بین نفی کے لیے ایمپٹی ہورائزن ٹیم کی جانب سے یہ ویڈیو تیار کر گئی ہے کہ کیسے کسی بھی اچھے اور طاقتور زووم والے کیمرے کی مدد سے وہی غائب شُدہ کشتیاں بالکل واضح نظر آ جاتی ہیں۔

https://youtu.be/0xWsuFLdgBs

ماحول کے تعامل کا بہترین تجربہ کہ کیسے ماحول کے تعامل کی وجہ سے ہمیں سورج غروب ہوتا نظر آتا ہے؟


ہمارے فرانسیسی مسلم دوست برادرم علی میگ کا بھی اسی ایٹماسفیرک ریفریکشن پر کیا گیا تجربہ بھی ملاحظہ فرمائیں. کہ کیسے سورج طلوع و غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے.
اسی کو حقیقی و اصلی سائنس بولتے ہیں جسے کوئی بھی متعلقہ ذرائع استعمال کر کے دہرا کر ثابت کر سکے،

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2199120550318162&id=100006607150667

Debunking of the “Top Ten Reasons Why We (allegedly) Know the Earth is Round (as in a globe)

جیسا کہ ڈاکیومینٹری کے ٹائٹل سے بات واضح ہو رہی ہے کہ یہ کس بابت ہے مزید اس میں راب سکیبا نے بہت خوبصورتی، وضاحت اور تفصیل سے سورج اور چاند پر بھی بہترین دلائل دیے ہیں وہ بھی فیزیکل تجربات سے نہ کہ کسی سیمولیٹر یا توجیح سے۔
ٖٖفلیٹ ارتھرز کے لیے بہترین ڈاکیومینٹری

If Earth is Flat then how Moon Eclipse happen?

چاند گرہن کیوں ہوتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب گلوب میں کہا جاتا ہے کہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آنے کی وجہ سے ہوتا ہے ہم سب مسطحتین دلائل کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ ہے کیونکہ کوئی ایسا سایہ نہیں ہے جو پہلے چاند کو کالا کر دے اور پھر لال کر دے؟۔

ضروری گذارش؛
اگر آپ اس پوسٹ کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اگر آپ فلیٹ ارتھر نہیں ہیں تو پہلے اپنے ذہن کو موجودہ گلوب ماڈل سے بالکل خالی کر کے اس کو پڑھیے گا۔ گلوب ماڈل ایک جھوٹ ہے اور ہمارے پاس اس کے ان گنت ثبوت ہیں۔ جبکہ جو احباب فلیٹ ارتھر / مسطحتی ہیں وہ اس پوسٹ کو بہت ہی غور سے پڑھیں۔

جواب؛

گلوب ماڈل کی رو سے یہ بالکل ناممکن ہے جسے ہم نے اپنی جاری کردہ رے آپٹک سیمولیٹر والی ویڈیو میں بھی ثابت کیا تھا پہلے وہ ویڈیو دوبارہ دیکھیئے!

 سوڈو سائنس یہ کہتی ہے کہ چاند گرہن زمین کے سورج اور چاند کے درمیان آنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا ہونا ناممکن ہے۔ جانیے اِس آپٹک سیمولیٹر کی مدد سے۔

چونکہ چاند گرہن کسی صورت بھی زمین کے سائے کی وجہ سے ہونا ممکن نہیں ہے تو ہمیں اُ س حقیقت کو لازمی تلاش کرنا ہوگا  ایسا ہونے کی  اصل وجہ کیا ہے؟۔ اس بات کی بنیاد کو آپ سیمولیٹر کی ویڈیو میں دیکھ چکے ہیں۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سورج گرہن ہونے کی وجہ چاند کا زمین اور سورج کے درمیان آنا ہے۔ چونکہ چاند اور سورج آسمان پر نظر آنے والے سب سے واضح فلکی اجسام ہیں تو انسان شروع سے ان دونوں کا خاص طور پر مشاہدہ کرتا آیا ہے۔
سب سے پہلے قدیم مصری تہذیب نے اِس بات کا پتہ لگایا تھا کہ چاند اور سورج گرہن کیوں، کیسے اور کب کب ممکن ہوتے ہیں۔ (موجودہ دور میں بھی جس حساب کتاب “سیروس” کی بنیاد پر اِس 18 سالہ گرہنوں کے سائیکل کا پتہ چلایا جاتا ہے کہ آنے والے اگلے سالوں میں گرہن کب، کتنا اور کسی مقام پر ہو گا) سیروس کی بنیاد قدیم مصری تہذیب نے اپنے کمال کے فلکیاتی مشاہدات کی بنیاد پر رکھی تھی جسے بعد کےادوار میں یونانی تہذیب نے اپنے کمال پر پہنچایا تھا۔ اُسی سیروس کی بنیاد پر آج بھی گرہنوں کے سارے حساب کتاب کو کیا جاتا ہے۔ چونکہ اب ٹیکنالوجی کافی ترقی کر چکی ہے تو یہ حساب کتاب بہت آسانی سے آنے والے سن 2099 تک کا ڈیٹا کی شکل میں آج موجود ہے۔

ہماری اس پوسٹ کا اصل مدعا چاند گرہن ہے کہ وہ کیسے اور کیوں ہوتا ہے؟

چاند گرہن حقیقت میں انوبس جو کہ ہندی فلکیات میں ایک شفاف فلکی جسم راہو اور کیتھو کے لیے بولا جاتا ہے، کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دی گئی سب سے پہلی تصویر میں آپ چاند کے مدار میں موجود (کہ چاند اپنے مدار میں چلتے چلتے انوبس جو کہ چاند گرہن کے موقع کے علاوہ سورج کے قریب ہی رہتا ہے) اِس فلکی جسم کو دیکھ سکتے ہیں کہ جب یہ چاند کے ساتھ اپنے اوپری مدار میں ہوتا ہے تو اِس کو راہو کہتے ہیں، یہ تب سیاہی مائل سایہ ہوتا ہے جو چاند کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ پھر چاند کو اپنی لپیٹ میں لیے جب یہ اپنے مدار کے نچلے حصے میں آتا ہے تو یہ سُرخی مائل ہو جاتا ہے تب اسے کیتھو کہتے ہیں انگریزی میں بالترتیب (Rahu & Ketu) کہلاتے ہیں۔ اِسی جسم کو قدیم مصری تہذیب میں انوبس کہا جاتا تھا جس کا انگریزی مطلب بلیک سن / کالا سورج ہے اور یہ اِسی نام سے نورس فلکیات میں بھی موجود ہے۔ اِسی فلکی جسم کو آج ناسا جیسے سوڈو سائنس کے ایلیٹ پلانِٹ ایکس کہتے ہیں۔

یہ تصویری چارٹ ہندی فلکیات سے ماخوذ ہے۔ راہو اور کیتھو حقیقت میں وہ فلکی جسم ہے جو چاند کے مدار میں تب آتا ہے جب چاند گرہن کے موقع بنے اور چاند کے مدار میں انوبس آ جائے۔ عام حالات میں انوبس سورج کے آس پاس چلتا رہتا ہے لیکن چونکہ یہ فلکی جسم بالکل شفاف ہے تو اِسے عام حالات میں دیکھنا بالکل ناممکن ہے اِسے صرف تب ہی دیکھا جا سکتا ہے جب چاند گرہن کا موقع ہو اور یہ چاند کے بالکل قریب آ رہا ہو اور چاند کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا ہو۔

شائد آپ کو پہلی بار یہ بات عجیب لگے لیکن حقیقت ہے جس کا ثبوت بھی پوسٹ کی تصویر نمبر 2 اور تصویر نمبر 3 میں موجود ہے۔ (اگر کوئی گلوبر اُسے لینزز فلئیر سے تعبیر کر رہا ہے تو اُس سے ہمیں پوری ہمدری ہے کہ وہ انوبس اور لینز فلئیر میں بھی فرق کرنے سے قاصر ہے اور یہ کہ لینز فلیئر کیا ایسی ہوا کرتی ہے؟) اگلی بار آپ بھی اِسے خود سے تصدیق کر سکتے ہیں۔ اصل سائنس ہی وہ ہے جس کی مطلوبہ پیمانوں کے ہوتے کوئی بھی تصدیق کر سکتا ہے یہ نہیں کہ سوڈو سائنس کی طرح ہر بات صرف قیاس اور تھیوری ہو اور جس کی کوئی بھی تصدیق نہ کر سکے۔

نوٹ؛ ہم ماضی میں اس بابت ایک غلطی کرتے رہے ہیں کہ یہ دو اجسام ہیں، نہیں بلکہ حقیقت میں یہ ایک ہی جسم ہے جس کی مدار کی بلندی کے حساب سے الگ الگ تعاملات ہیں۔ ہمارے لیے ابتدائی طور پر اسے سمجھنا بہت ہی مشکل رہا ہے۔ اور کئی بار احباب کے اصرار کے باوجود ہم نے اس پر کچھ نہیں لکھا کہ پہلے ہم اپنی تحقیق ہر لحاظ سے مکمل کر لیں پھر ہی اس پر کلام کریں اور کوئی تفصیلی تحریر لکھیں۔ لہذا ہم اپنے سابقہ مؤقف سے دلیل کی بنیاد پر رجوع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی فلکی جسم ہے جس کا تعامل چاند کے ساتھ گرہن کے دوران ان کے مدار کے بلندی تبدیل ہونے کی وجہ سے الگ الگ ہے اسی وجہ سے عام طور پر چاند گرہن کے دوران چاند زیادہ بڑا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زمین سے فاصلہ انوبس کے اُسے اپنی لپیٹ میں لینے کی وجہ سے زیادہ وزنی ہو کی نیچے آ جاتا ہے تبھی زمین سے چاند ہمیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے بالکل ویسے جیسے اکثر چاند اپنے مدار کی بلندی تبدیل کر کے نیچے آتا ہے اور ہمیں بڑا نظر آتا ہے عین ویسے ہی چاند انوبس کی وجہ سے اپنی بلندی تبدیل کرتا ہے اور قریب آنے پر زیادہ بڑا نظر آتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ چاند کا بڑا ہونا گرہن کے لال رنگ والے فیز میں ہوتا ہے کالے والے میں نہیں بغور مشاہدہ کر کے آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

مزید اس پر تحقیقاتی ڈاکیومینٹریز پر مشتمل پوسٹ بھی ملاحظہ فرمائیں؛

چاند اصل میں کیا ہے اور چاند گرہن کی حقیقت کیا ہے؟
اس
پر کچھ منتخب کردہ ڈاکیومینٹری ویڈیوز

چاند کی وضاحت
https://www.youtube.com/watch?v=n4GmeI2omfM&t=1s

چاند کی وضاحت
https://www.youtube.com/watch?v=7g7nSg4ofJw

چاند گرہن کی وضاحت
https://www.youtube.com/watch?v=9oMc42Wg7sU&t=9s

چاند گرہن میں راہو اور کیتھو کا کردار
https://www.youtube.com/watch?v=RXT_3Hskhbo

ایک چاند گرہن کی ڈیبنک ویڈیو
https://www.youtube.com/watch?v=CzRDwQaslbk&t=207s

چاند گرہن کی حقیقت میں جو وجہ ہندی فلکیات میں بیان ہوئی ہے وہی اصل سائنسی وجہ ہے کہ ہر سال میں کم از کم 2 بار ایسا ہوتا ہے کہ راہو اور کیتھو / انوبس کے نام سے یہ فلکی جسم چاند کے مدار سے متصل اپنے مدار میں چلتے چلتے چاند کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ راہو کالے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اسی وجہ سے چاند گرہن جب شروع ہوتا ہے تو پہلے چاند گھنانے لگتا ہے مطلب سیاہی مائل ہونے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے غائب ہوتا نظر آتا ہے اور چاند گرہن کے دوسرے مرحلے میں عام طور پر کیتھو جو کہ سُرخ رنگ کے لیے بولا جاتا ہے، انوبس کے چاند کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہی مدار کی تبدیلی سے اپنے مدار میں نیچے آنے پر چاند لال ہو جاتا ہے اور ہمیں چاند سُرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

یہ فلکی جسم بطور سایہ شروع سے قدیم تہذیبوں کی فلکیات میں موجود ہے چونکہ سکہ رائج الوقت سوڈو فلکیات / ہیلیوسنٹرک ماڈل میں انسانوں کو کھلی دھوکہ دہی سے ثابت کرنا تھا کہ زمین گلوب ہے تو یہ کہانی گھڑ لی گئی کہ زمین کے سورج اور چاند کے درمیان میں آنے کی وجہ سے چاند گرہن ہوتا ہے لیکن کوئی بھی ایسا ایک تجربہ دکھا دیا جائے جس میں یہ ثابت کیا جا سکے کے زمین کا سایہ کسی صورت لال رنگ بنا سکتا ہے؟۔
جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ سایہ سایہ ہوتا ہے جس میں کوئی بھی شے اپنا اصل رنگ کھو دیتی ہے۔ چونکہ عموما چاند گرہن کا سلسلہ ہی ایسے ہوتا کہ کہ وہ پہلے کالا پھر لال ہوتا ہے تو جدید سوڈو سائنس جی بھر کر ہم سب کے منہ پر اس بابت جھوٹ تو بولتی ہے لیکن ثبوت نہیں دیتی جیسے آپ تصویر نمبر 4 میں دیکھ رہے ہیں۔

تصویر نمبر 1 میں یہ بھی واضح ہے کہ انوبس/ راہو اور کیتھو (اب سے تحاریر میں انوبس ہی استعمال ہوگا نوٹ کر لیں) کا راستہ بھی صاف دکھائی دے رہا ہے جو سورج کو کراس کر رہا ہے اور کیسے چاند گرہن کے دوران چاند کے انوبس کے مدار میں چاند کے آنے سے اور انوبس کا سورج کے قریب اپنے مدار کو چھوڑ کر چاند کو اپنی لپیٹ میں لینے کا کام کرتا ہے۔ تبھی صحیح حدیث میں چاند اور سورج گرہنوں کو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا گیا ہے۔

تصویر نمبر 5 میں ملاحظہ فرمائیں قدیم مصری زبان میں سیٹ چاند کو کہتے تھے اور سول سورج کو۔

یہ انوبس چاند گرہن کے دوران ہی چاند کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اٗسے گہناتا ہے اور بالترتیب پہلے کالا اور پھر لال کرتا ہے اور آخر میں چاند سے الگ ہو کر اپنے مدار سورج کے قریب چلا جاتا ہے۔
چاند گرہن کے دوران جیسے ہی یہ سورج سے اپنا مدار کراس کرتا ہے تو یہ چاند کو عموما اسکے فیز کی انتہا یعنی چودھویں تاریخ کو / بدر کے چاند کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے کہ چاند اُس وقت سورج سے اپنے فاصلے کے انتہائی مقام پر اور مخالف سمت میں ہوتا ہے۔

اس پر ایک سائنسی ٹرم بھی ملوظ خاطر رہے وہ ہے۔ سیلینیلیون گرہن۔
یہ وہ گرہن ہوتا ہے جس دوران چاند اور سورج دونوں اُفق سے اوپر موجود ہوں یا سورج اُفق کے قریب موجود ہو اور چاند اُفق سے اوپر موجود ہو۔ یہ گرہن قریب ہر اُس چاند گرہن میں ممکنا طور پر نظر آ سکتا ہے جس میں گرہن کے ختم ہونے کےمقام پر طلوع آفتاب کا وقت ہو جائے۔ جیسے 31 جنوری 2018 کو ہونے والے چاند گرہن کے دوران فلمائے گئے اسی سیلینیلیون گرہن کی بابت ہمارے عزیز دوست ڈیرل ماربل کی 31 جنوری 2018 کے چاند گرہن کی بابت نقلی گلوب کی بہترین ڈیبنک ویڈیو میں یہ بات واضح طور پر بیان کی کہ؛
سوج اور چاند دونوں افق پر واضح ہیں. پوری ویڈیو سکون سے دیکھیں اور سیلینیلیون گرہن کا عملی مظہر دیکھیں ساتھ میں کیسے ہم سب کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا ہے اُس کا بھی پول کھلتا ملاحظہ کیجئے۔

یہ وہ نظارہ ہے جو اکیلا ہی پوری گلوب اور ہیلیو سنٹرک ماڈل کا پول کھول کر رکھ دیتا ہے کہ یہ گپ جو چھوڑی جاتی ہے کہ چاند پر زمین کا سایہ پڑنے سے گرہن ہوتا ہے تو اس نظارے میں زمین کے مبینہ سائے کے سورج کے حساب سے اینگل کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی یہ کہے تو ہم اس بات پر کھل کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بندہ ریاضی، اینگلز جیومیٹری کی الف ب بھی نہیں جانتا۔

جبکہ سوڈو سائنس اس خاص نظارے کی انتہائی دقیانوسی توجیح کرتی ہے جس کا مکمل رد آپ آپریشن زیب نامہ کے صفحہ نمبر 355 پر جاری بحث میں تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں مزید اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے آپ ہماری منتخب کردہ اس پلے لسٹ سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں؛

https://www.youtube.com/watch…

یہ پوری پلے لسٹ دیکھ کر آپ اس مدعے کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں سیلنیلیون گرہن کیسے سکہ رائج الوقت سوڈو سائنس کے گلوب ماڈل کی قلعی کھول کر رکھ دیتا ہے۔

چاند گرہن کا سائنسی پراسیس؛

انوبس کے مدار کا جھکاؤ سورج کے مدار کے حساب سے 5 ڈگری 10 منٹ ہے، اس لحاظ سے گرہن تب ہی ممکن ہو گا جب یہ تینوں فلکی اجسام (سورج، چاند، انوبس) جب ایک سیدھ میں آ جائیں اور چاند اُس وقت سورج کے مدار کی گذرگاہ سے گذرے جسے نوڈ بھی کہا جاتا ہے۔ کسی بھی ایک سال کے دوران ان تینوں اجرام فلکی کی اپنے مدار میں چال کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 3 بار ہی ہو سکتا ہے۔ 
انوبس کبھی بی آسمان پر نہیں دیکھا جا سکتا اُس کی ایک وجہ تو بیان ہو چکی کہ وہ شفاف ہے اور دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ سورج کے انتہائی قریب چلتا ہے۔ اور چلتے چلتے ہیں چاند جب اُس مقام پر آتا ہے تو اُس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ انوبس بھی باقی اجرامی فلکی کی طرح سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرتا ہے جیسے باقی جملہ اجرام فلکی سورج کے گرد زمین کے اوپر اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں جن کو آپ اس کے ذریعے بھی سمجھ سکتے ہیں؛

ٹیکو براہی کا بھی زمین کو مرکز ہوتے ہوئے پورا کائناتی ماڈل یہی تھا جس کی بابت ہم نے تفصیل سے اپنے رسالے حقیقۃ الارض میں لکھ کر جاری کیا تھا یہ رسالہ بھی ہماری ویب سائٹ کے بُک سیکشن میں موجود ہے۔سائنسی طور پر اس پہلو پر مزید گہری تحقیق کی ضرورت ہے کہ ان سب اجرامِ فلکی کی برتاؤ سمجھا جا سکے کیونکہ رائج الوقت سوڈو فلکیات نے اصل علم کو ہی چھپا رکھا ہے تو اِس کی حقیقت کو جاننے کے لیے جتنا بھی ہم سے ممکن ہو سکتا ہے قدیم فلکیاتی کتب سے تلاش کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر سکتے ہیں۔ یادرکھیں ہمارا وعدہ کہ نہ ہم جھوٹ بولیں گے نہ بولنے دیں گے اور جس بابت غلط ہونگے دلیل کی بنیاد پر اعلانیہ رجوع کریں گے۔

اس پر مستقبل میں اگر ہمیں مزید ذرائع میسر ہو سکے تو مزید تحقیق کریں گے اور آپ سے شئیر کریں گے ابھی تک بعد از تحقیق جو معلوم ہو سکا اور جو سمجھ سکے وہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اصولی طور پر یہ پوسٹ ہماری آنے والی کتاب کا حصہ تھی لیکن قارئین کے اصرار پر ابھی اِسے پوسٹ کی شکل میں جاری کر دیا گیا ہے۔

ہمیشہ کی طرح دعائے خیر کی خصوصی اپیل ہے!

حافظ عبدالوھاب الہاشمی ، کنیت: حافظ ابو تیمیہ الاندلسی


Flat Earth – maps.google & Mercator Directional Debunked

اِس ویڈیو میں آپ جان سکیں گے؛

کیوں گوگل میپس اور گوگل ارتھ چہار سمتی لحاظ سے غلط ہیں؟

مرکیٹر پروجیکشن کیا ہے؟ کیوں مرکیٹر پروجیکشن غلط ہے؟

ہم قبلہ رُخ سمت کیسے معلوم کر سکتے ہیں اور کیسے قبلہ کی سمت گوگل میپس کی مرکیٹر پروجیکشن کو ٖغلط ثابت کر دیتی ہے؟

گوگل میپس میں دکھائے جانے والے شمالی اور جنوبی خشکی کے علاقے اپنے اصل سائز پر نہیں ہے؛

اور جانئے مزید بہت سی اہم معلومات اِس ویڈیو میں۔ مزید معلوماتی ویڈیوز کے لیے ہمارا چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔h