میسنری کے دس احکامات

کے وائے ای سیریز

دس احکامات (the Ten commandments )

یہ ذکر گذر چکا کہ فری میسن ایک مضبوط مذہب ہے جو سوائے ملحد کے ہر مذہب کے ماننے والے کو لے سکتا ہے مگر کوئی بھی ملحد کسی صورت فری مسین نہیں بن سکتا۔ یہ بھی بین ہے کہ فری میسن مذہب اصل میں شروع سے لے کر اسلام تک گذرے مذاہب کا ایک متنجن ہے۔ جس میں غالب عنصریہود کبالسٹ کا ہے کبالسٹ یہود کا سب سے ایلیٹ فرقہ ہے جن کے ہاں عام یہود کا وہی مقام ہے جو یہود کے ہاں باقی مذاہب کے ماننے والون کا۔ مگر فری میسن میں ایسا بالکل نہیں ہے ہر وہ آدمی جو فری مسین بن گیا وہ اپنی ڈگری کے لحاظ سے ان کے درمیان عزت و تقریم پاتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔

ابھی تک پہلی ڈگری جاری ہے جس کے شروع میں ہی فری مسین کو بنیادی دس احکامات سکھا دیے جاتے ہیں۔
یہ وہی احکامات ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ہر الہامی مذہب میں مشترکہ ہیں۔ اسی مقام سے پہلی ڈگری پر موجود فری مسین کو ان دس احکامات کا ہر صورت پاس، لحاظ اور ان سے وفادار رہنا لازم ہو جاتا ہے۔
اُن دس احکام کو سکرین شاٹ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ من و عن ہبرو بائبل میں ذکر کردہ دس احکام ہیں۔ مگر اصل مسلہ ادھر ہی سے شروع ہو جاتا ہے کہ یہ کون سا رب ہے؟ وہ رب جو آدم و ابراہیمؑ والا ہے یا وہ جسے فری میسن 30 ڈگری پر جا کر آشکار کرتے ہیں۔
ان کے ہاں سپریم بینگ یہی لگتا ہے کہ وہی ہے جو حقیقت میں مالک کائنات اللہ تعالیٰ ہے۔ مگر جیسے ہی 30 ڈگری آتی ہے تو یارک رائٹ میں باقاعدہ طور ہر یہ آشکار ہوتا ہے کہ نہیں وہ رب نہیں ہے بلکہ لوسیفر جو انسانی شکل میں سب سے پہلے نمرود کی شکل میں آیا تھا یہ وہ رب ہے۔
یاد رہے جس نے نمرود کی بابت دھوکہ کھایا وہ اصل کھیل کو ہی سمجھنے سے قاصر رہا۔ نمرود وہ پہلا انسان تھا جس نے اپنے منہ سے اپنے رب ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے کسی انسان کی یہ جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنے منہ سے اپنے آپ کو رب کہہ سکے۔
نمرود ہی اصل میں فری مسین کے ہاں رب ہے مگر اس کا پتہ جب فری مسین کو چلتا ہے تب تک وہ 30 ڈگری پر ترقی پا چکا ہوتا ہے اور شروع میں نظر آنے والے ایک خالص توحیدی مذہب کی بجائے وہ براہ راست نمرود سے جُڑتا ہے جو درحقیقت ابلیس لعین کی ایک شکل جسے وہ لوسیفر کہتے ہیں مطلب روشنی کا فرشتہ۔ فری میسن میں روشنی علم کو کہا جاتا ہے بصیرت کو کہا جاتا ہے۔ ان کے ہاں یہ شروع میں وعدہ کیا جاتا ہے کہ آپ کو وہ علم و بصیرت ملے گی جو دنیا کے کسی بھی مذہب کی تعلیم سے نہیں مل سکتی۔ وہ علم و بصیرت درحقیقت وہی ہے جو شیطان نے انسان کو سکھایا تھا۔ اس میں اتنا کچھ ہے کہ اگر ابھی لکھنا شروع کیا تو اس سیریز کا مقصد کہ اپنے دشمن کو پوری طرح سمجھا جائے وہ ہی فوت ہو جائے گا۔
اسی لیے ابھی کے لیے جو پہلی ڈگری میں سکھایا جاتا ہے اسی پر کلام جاری ہے۔ فری میسن اپنی 29 ڈگری تک اپنے 5 بنیادی اصولوں پر ہر صورت کاربند رہتے ہیں۔ تا کہ وہ 30 ڈگری پر جا کر وہ پراڈکٹ تیار کر سکیں جس کسی بھی وقت کسی بھی صورت ان کے منصوبے کو عملی جامہ بلا تامل پہنا سکے۔ اسی لیے کوئی عورت کسی صورت فری میسن نہیں بن سکتی کہ وہ کبھی بھی پلٹا کھا سکتی ہے۔ مگر صرف مرد ہی فری میسن بنتا ہے۔ 30 ڈگری فری میسن کوئی عام لوگ نہیں ہوا کرتے۔ بڑے بڑے سیاستدان وہ بھی ہر کوئی نہیں بلکہ ہزاروں میں سے ایک۔ اُن کو اس عہدے تک لایا جاتا ہے۔
آپ کے کرنے کا کام اپنی اپنی تحقیق کریں کہ اب تک گذری سیریز میں بتائے گئے اصولوں پر آپ کی ںظر میں کون کون سا سیاستدان پورا اترتا ہے۔ وہ پانچ اصول پہلے جاری کئے جا چکے ہیں۔ ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ کو جب پتہ چلے اُس کے ہر پہلو پر غور کریں کہ وہ کون کون ہیں۔ سیاستدان اس لیے کہ نیو ورلڈ آرڈر کے بعد صرف سیاستدانوں کے لیے 30 ڈگری اور اُس سے اوپر کے عہدے مختص ہیں۔ باقی سب اس سے نیچے رہتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ یاد رہے سیاست دان صرف سیاست دان نہیں ہر وہ بندہ جس کے ہاتھ میں عوامی طاقت ہے یا آ سکتی ہے یا اس کا عہدہ اس کا متقاضی ہے وہ سب اس میں شامل ہیں۔ باقی آپ سب خود سمجھدار ہیں!۔

https://photos.app.goo.gl/HwW3yob1k7Jcb3fm2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *