Flat Earth Meme Collection

کہا جاتا ہے کہ ایک تصویر میں ہزاروں تحاریر سما سکتی ہیں بالکل اِسی طرح میمز کو موقع و محل کی مناسبت سے پیش کرنا بھی وہ فن ہے کہ جسے آ جائے وہ سامنے والے کو بہت آسانی سے اپنی بات سمجھا سکتا ہے۔ ہماری ویب سائٹ کے قارئین کی سہولت کے لیے ایسی ہی فلیٹ ارتھ سے متعلقہ بہترین میمیز اس ڈرائیو لنک میں موجود ہیں۔ میمیز کے لیے کلک کیجئے

کے وائے ای سیریز، عقیدہ تثلیث

کیا یہ اتفاق ہے کہ عقیدہ تثلیث گھڑا گیا ہو؟
نہیں بالکل نہیں یہ اتفاق نہیں بلکہ ہم سے چھپا دی گئی وہ تاریخی حقیقت ہے جس پر کم ہی غور و تحقیق کی جاتی ہے۔ اس پر ایک بہترین محقق پروفیسر لنگڈن نے کافی کام کیا تھا مگر اس کا مطمع نظر صرف بابل تھا۔ ہم نے اس پر اُسی پہلو سے مزید تحقیقات کی اور خرگوش کے سرنگ میں مزید گہرائی تک چلتے گئے۔

اور اس گہرائی میں جو ملا آپ اسے ہی پڑھ رہے ہیں لف کی گئی تصویر میں موجود ٹیبل کو غور سے پڑھیں یہ کوئی اتفاق نہیں وہ کڑوی حقیقت ہے جس پر کبھی ہم نے غور ہی نہیں کیا کہ جبکہ طوفان نوح میں ساری زمین کا صفایا کر دیا گیا تھا تو کیسے بعد میں دوبارہ سے شرک اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت ابلیس نے نمرود کے ذریعے ہی کرائی تھی۔ مگر اس بار فرق یہ تھا کہ بجائے کسی کے بت کو پوجا جائے بلکہ اُس کو سامنے کر دیا جائے۔ 
نمرود نے اپنی بہن جو اسکی ماں بھی تھی اور پھر اسکی بیوی بھی بنی سمیراس / ایشتار اسی سے اپنے پیدا ہونے والے بیٹے تاموز سمیت اپنی خاندانی مثلث کو بطور معبود بطور مسیحا انسانیت اور بطور رب پوجنے کا حکم صادر کیا۔

ابھی اسی کو سمجھیں کہ کیسے جب اس کی قوم پوری زمین پر بھیلی تو وہ اپنے ساتھ اپنے معبودانِ باطلہ کو بھی لے گئی جس علاقے میں جا کر آباد ہوئی اپنی اپنی زبان اور اپنے اپنے طریقے سے ان تینوں کو ہی پوجتی رہی۔ 
سوڈو تاریخ تو ہمیں کہانی سناتی ہے کہ انسان ہزاروں سال پہلے دنیا کے مختلف حصوں میں آباد ہوا وہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ طوفان نوح کا ذکر ہر قوم ہر مذہب میں موجود ہے کہ پوری دنیا کا صفایا ہو گیا تھا پھر نوحؑ کے تینوں بیٹوں سے نسل انسانی کا احیاء ہوا تھا۔ چونکہ سوڈو سائنس ہر صورت میں مذہب کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتی ہے تو اس نے ہر ممکنہ طور پر اس اہم نکتے پر پردہ ڈال رکھا ہے۔

عقیدہ تثلیث ہی طوفان نوح کے بعد شرک اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی بنیاد ہے۔ اسی کے دلیل کے طور پر آپ دیا گیا چارٹ بار بار اور عمیق سمجھ کی مدد سے دیکھیں۔ آپ کو ساری پراسراریت آپ کے سامنے کھلتی مل جائے گی۔

انگریزی زبان بھی صرف زبان نہیں بلکہ پوری گماتریا کی بنیاد پر بنائی گئی تھی۔ قدیم ترین یورپی تہذیب سکینڈے نیون وائی کنگ تھی۔ جس کے زبان کی بنیاد پر انگریزی زبان بنائی گئی یہ بھی ایک الگ سے بہت ہی وسیع اور پراسرار موضوع ہے۔ دلیل کے لیے صرف ہفتوں کے ناموں پر اکتفا کرتے ہیں باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

Sunday= Sun’s Day
Monday = Moon’s Day
Tuesday = Twi’s Day (Mars Day)
Wednesday = Odin’s Day (Nimrod)
Thursday = THOR’s Day (Tammuz)
Friday = Freyda’s Day (ISIS’ Day) (Simmiras / Ishta’s day)
Saturday = Saturn’s Day

عقیدہ تثلیث کا مختلف مذاہب میں مصدقہ وجود

کے وائے ای سیریز، نمرود

کہنے کو بابل کا بادشاہ تھا. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اسی لعین کا مناظرہ ہوا تھا. اسی نے ابو ا النبیاء علیہ السلام کو آگ میں ڈلوایا تھا. مگر اس کا ہماری اس سیریز سے کیا لینا دینا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں سارے راز چھپے ہیں. نمرود وہ پہلا انسان تھا جس نے خود کو رب کہا تھا اس سے پہلے کسی کی جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ یہ دعویٰ کر سکے. رب ہونے کے تمام لعین دعویدار نمرود کے بعد ہی ہوئے ہیں. یہ پہلا تھا. مگر اس کی اہمیت اس وجہ سے بہت زیادہ ہے کہ اس نے ایسے بہت سے کام کیے تھے جن کا اثر ہمیشہ کے لیے انسانوں پر پڑ گیا اور آج بھی جاری ہے اور دجال. لعین تک جاری رہے گا.
اس انسان پر بہت ہی کم تحقیق کی گئی ہے مگر جس نے بھی کی ہے اس کی تحقیق ایک ایسے اہم نکتے تک گئی ہے جہاں پر ساری گتھیاں اپنے آپ. سلجھ جاتی ہیں وہ نکتہ ہے دنیا کے بڑے مذاہب اور تہذیبوں میں تین کرداروں کا.
باپ، بیٹا، اور ماں
آپ اگر خود سے تحقیق کریں گے تو حیرت انگیز طور پر اسلام کے علاوہ ہر مذہب و تہذیب میں یہ تین بنیادی کردار پائیں گے. فری میسنز کے ہاں نمرود رب کا اوتار ہے اور فری میسنز کی 29 ڈگری تک فری میسن کے لیے وہی رب ہوتا ہے جو اسکے مذہب نے بتایا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی 30 ڈگری کا حلف اٹھاتا ہے تو اسکے سامنے حقیقی رب کی گھتی کھولی جاتی ہے کہ نہیں اصل رب لوسیفر ہے جو علم کی روشنی کا منبع کا جس کی انسانی شکل میں نمرود زمین پر آیا تھا.
چونکہ البرٹ پائیک مورل اینڈ ڈوگما میں اسی پر کھل کر لکھ گیا تھا تبھی جدید فری میسنز ظاہری طور پر اپنی اس مصدری کتاب سے بیزاری کرتے ہیں مگر حقیقت میں یہ انکا کوڈ آف کنڈکٹ ہے.
نمرود کی بابت ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس نے بابل کا مینار بنوایا تھا یہ مینار کیوں بنایا گیا تھا کبھی آپ نے اس پر سوچا؟
اس کے معمار ابتدائی فری میسن کہلائے جنہوں نے اپنے آپ کو پوری طرح سے نمرود کے لیے وقف کر دیا تھا. ایک بات یاد رہے نمرود طوفان نوح کے بعد سب سے پہلے انسانی آبادی سب سے پہلی سلطنت کا مطلق العنان بادشاہ تھا. اس لعین کی ایک اور اہم بات کہ اس نے اپنی بہن سے شادی کی تھی جو اس کی حقیقی ماں بھی تھی. اسکا بابلی نام ایشتا تھا. یہ وہی ایشتا ہے جس کے یوم پیدائش کے طور پر آج بھی عیسائی اپنے دین سے جہالت کی بنیاد پر ایسٹر مناتے ہیں یہ اسی ایشٹا کا یوم پیدائش ہے. 25 دسمبر عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش نہیں بلکہ درحقیقت نمرود کا یوم پیدائش ہے. یہ سب عیسائیت میں پولس یہودی نے جو ایک کبالسٹ ربی تھا بظاہر عیسائی پوپ بن کر بڑی عیاری سے کونسل آف نیسیا کے ذریعے اور قسطنطین کی آشیرباد سے عیسائیت پر نافذ کر آ گیا.
نمرود، ایشتا اور ان کا بیٹا تاموز یہ تینوں حقیقی طور پر اسلام کے علاوہ ہر مذہب ہر تہذیب میں آج تک پوجے جاتے ہیں. فری میسنز کہنے کو 300 سال پرانے ہیں مگر جب ہم انکی مصادر کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں یہ کلام فخر سے ملتا ہے کہ ہم ہی وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے اوتار نمرود کے لیے وہ عظیم الشان مینار تعمیر کیا تھا.
پہلے اس مینار کی بابت بھی کچھ پڑھ لیں. تلمود، فری میسن مصادر اور بائبل میں جو اسکی بابت ہے وہ آپس میں کافی متضاد ہے.
تلمود میں اسے انسانوں کی پہلی درسگاہ کہا گیا ہے. جبکہ حقیقت میں یہ مینار ابلیس لعین کی رہنمائی میں تعمیر کیا گیا تھا.
فری میسنری میں بھی اسے انسانوں کی پہلی عظیم الشان درسگاہ اور پارلیمنٹ کہا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ فری میسنری کا زمین پر سب سے پہلا لاج تھا.
بائبل کے عہد نامہ قدیم کی کتاب جینیسز اور جاشر میں اس مینار کی بابت چشم کشا انکشافات اختصار میں بیان ہوئے ہیں. بائبل کے لیے میں ہمیشہ کنگ جیمز ورژن استعمال کرتا ہوں کیونکہ موجودہ دور میں اگر کسی بائبل کے نسخے کے چرچ خلاف ہے اور باقی نسخوں کے مقابل کو نسخہ کم تحریف شدہ ہے تو وہ یہی نسخہ ہے.
بائبل میں جاشر اور جینیسز کا اختصار کچھ اسطرح ہے.
نمرود وہ پہلا تھا جس نے خود کو خدا کہا.
نمرود وہ تھا جس نے طوفان کے بعد پہلی عظیم سلطنت بنائی.
نمرود کنعان کا بیٹا اور حام بن نوح کا پوتا تھا.
کنعان طوفان کے دوران کشتی پر ہی پیدا ہوا تھا.
کنعان طوفان سے پہلے زمین پر. موجود جسیم و طاقتور ترین انسانوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا. جن کے بڑے بڑے قد ہوتے تھے اور بہت ہی طاقتور اور جسیم ہوتے تھے خاص نشانی انکے ہاتھ اور پاؤں کی چھ انگلیاں ہوتی تھیں.
حام کی وفات کے بعد جب دوبارہ انسانوں میں فساد شروع ہوا تو اسی کنعان نے شام و فلسطین کے قدیم علاقوں پر مشتمل کنعانی سلطنت کی بنیاد رکھی اور اپنی بہت ہی ذہین بیٹی ایشتا سے شادی کی جس سے نمرود پیدا ہوا. جسکے بچپن میں ہی کنعان مر گیا اور ایشتا نے ہی نمرود کے جوان ہونے تک بطور حکمران اس سلطنت کو. مستحکم کیا اور نمرود کے باقاعدہ بادشاہ بننے پر اس سے شادی کی جس سے نمرود کا جانشین تاموز پیدا ہوا.
نمرود نے کنعانی سلطنت کو وسعت دی اور مصر کے علاقے کو آباد کیا اور. پہلی. مصری تہذیب کی بنیاد بھی بابل ہی کی طرز ہر رکھی. جیسے بابل فرات کے کنارے تھا عین ویسے ہی مصر نیل کے کنارے آباد کیا. یہی اس وقت کی معلوم دنیا اور اکلوتی سلطنت تھی.
بائبل کے ہی. مطابق نمرود جب طاقت میں بہت بڑھا تو سرکشی میں بھی ہر حد پار کر گیا اور اس نے بابل کے مینار کو بنوانا شروع کیا.
جس کا مقصد جاشر کے مطابق یہ تھا.
نمرود نے اپنی تین طاقتور جماعتیں تیار کیں سب کو الگ الگ کام سونپے.
پہلی کا. کام جب مینار مکمل ہو. جائے تو تم آسمان پر چڑھ کر وہاں موجود رب کو مار دینا. (نعوذ باللہ )
دوسری جماعت کا کام کہ جب مینار مکمل. ہو جائے تو تم آسمان پر چڑھ کر زبردست جنگ لڑنا اور سب کو مار ڈالنا.
تیسری جماعت انہی معماروں کی تھی جو اسکے پروہت بھی تھے انکا کام یہ سونپا گیا کہ جیسے ہی ہم آسمان پر چڑھ کر جنگ شروع کریں تو تم سب فورا ہمارے بت پورے آسمان میں رکھ دینا کہ باقی فرشتے نمرود کو رب مان کر پوجنا شروع کر دیں. مگر اللہ یہ سب جانتا تھا اور انکو برے منصوبے بناتے دیکھ رہا تھا.
جاشر میں ہی اس سے آگے لکھا ہے کہ،
جیسے ہی مینار مکمل ہوا تو اللہ نے ان پر عذاب بھیج دیا کہ وہ ایک زبان بولنے والے ایک مضبوط جماعت کے حامل 70 اجنبی زبانوں میں منقسم ہو گئے اور ایک دوسرے سے اجنبی ہو گئے اور انکی ہوا اکھڑ گئ اور سب منتشر ہو گئے.
یہ تو تھا بائبل میں لکھا اس بابت اختصار.
اب اگر ہم اس کی گہرائی میں جانا چاہیں کہ اس سے آگے کیا ہوا تھا تو وہ بائبل کے عہد نامہ قدیم میں اشارۃ اور تلمود و فری میسنرز کے مصادر میں تفصیل سے ملتا ہے.

مینار پر آئے عذاب کے نتیجے میں قومِ نمرود پوری زمین پر کدھر کدھر اور کیسے آباد ہوئی؟

لنک پوسٹ میں آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ کیسے طوفان نوح کے بعد پوری زمین پر انسان ہر ممکنہ جگہ پر جا کر آباد ہوئے۔

اب کچھ مزید بابل کے مینار کی بابت کہ وہ مینار بالکل اتنا اونچا نہیں تھا کہ اس پر چڑھ کر آسمان پر جایا جا سکتا بلکہ ابلیس لعین نے نمرود کو اور اُس کے پروہتوں فری میسنز کو وہ ہر ممکنہ جادو سکھایا تھا جس کی مدد سے آسمان پر چڑھا جا سکتا تھا مگر چونکہ آسمان پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بنا کوئی نہیں چڑھ سکتا تو ابلیس نے قوم نمرود کو بھی وہ دھوکہ دیا۔ جس کا وہ شکار ہو کر عذاب الہی میں مبتلا ہوئے۔
جدید سائنس جسے ورم ہول کہتی ہے یہ وہی بابل کا جادو ہے جس پر یہود کبالسٹ اور فری میسنز کو پوری دسترس حاصل ہے۔ ورم ہول کی بابت یہی تھیوری ہے کہ اس میں فاصلہ اور وقت مُڑ کر مختصر ترین ہو جاتا ہے یہی ورم ہول بابل کے مینار پر بنایا جا رہا تھا۔ وہیں سے ہر قسم کے جادو کی شاخیں پھوٹی وہیں سے ابتدائی فری میسنز کی بنیاد پر اور وہیں سے پراسراریت شروع ہوئی!
نمرود ہی پہلی حنوط شدہ لاش تھا سب سے پہلے اسی کو حنوط کیا گیا. وہ سب کرنے والے بھی اسکے بلا معاوضہ معمار فری میسن ہی تھے جن کو سیمیراس نے یہ عقیدہ پڑھایا تھا کہ نمرود دوبارہ جی کر اٹھے گا اور واپس آئے گا.
دنیا میں سب سے پہلی ممی نمرود تھا جس کی یہی ممی ہزاروں سالوں تک سب سے روپوش رہی. 20 ویں صدی کے اوائل سے ہی پوری فری میسنری آثار قدیمہ کے نام پر پورے مصر کا ریگستان چھان بیٹھی تھی. مگر اس کو تلاش کرنے میں ناکام رہی کہ مصری آثار قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر ظاہری ہواس نے بطور اتفاق نمرود کا مبینہ مقبرہ عین ابو لہول کے نیچے اور خوفو کے اہرام کے درمیان کھوج نکالا مگر ساری محنت کے بعد صرف یہ ملا کہ وہ جعلی مقبرہ تھا اور اس سے ایک شاہی تختی ملی جو اشوری زبان میں نمرود کی اصل قبر کا سب کچھ بتا رہی تھی. یہ واقعہ 1998 کا ہے.
اسی تختی کی رہنمائی میں دوبارہ سے بابل کا رخ کیا گیا. عراق جس پر صدام کی حکومت تھی عین 2002 میں جیسے ہی اسکے مقبرے کے آثار ملے تو پوری فری میسنری میں ہلچل مچ گئی. فری میسنز کو اس بابت ہر ممکنہ علم تھا کہ کیونکر نمرود کی لاش اتنی اہمیت کی حامل ہے.
2003 میں جب عراق پر حملہ ہوا. وہ اسی وجہ سے کیا گیا تھا کہ نمرود کی قبر باقاعدہ مل چکی تھی جیسے ہی یہ خبر پھیلی چند گھنٹوں میں عراق پر حملہ کا فیصلہ صادر ہوا. مسلہ لاش کے ساتھ ساتھ وہاں سے ملنے پراسرار 2 لاکھ کے قریب بابلی نوادرات کا تھا جس کی بابت فری میسنری پورے مصر کو تب تک کھود چکی تھی. جس میں وہ سب موجود تھا جس سے اسی نمرود جو کہ انکا مسیحا تھا اس نے دوبارہ جی اٹھنا تھا.
عراق پر حملہ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کے نام پر کیا گیا تھا یہی مقبرہ درحقیقت وہ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن تھا. آج بھی پوری دنیا میں امریکہ سے باہر سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ عین اسی مقبرے کے اوپر موجود ہے.
دجال نمرود کے ڈی این اے سے ٹیسٹ ٹیوب کر کے آئے گا کیونکہ یہودی کلوننگ کو کبھی نہیں مانیں گے اسی لیے موجودہ میڈیکل میں ٹیسٹ ٹیوب ہی واحد راستہ ہے.
یہ سب اس باب کا اختصار ہے جس کا نام نمرود ہے اور جو ہماری زیر تحریر کتاب کا سب سے اہم ترین باب ہو گا.
مختصر یہ کہ نمرود ہی پہلا دجال تھا اور آخری دجال بھی اسی کی نسل سے آئے گا.
تمیم داری رضی اللہ عنہ والی حدیث رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ و سلم کا معجزہ تھا. اس کو ادھر نہ ہم نے لانا ہے اور اسطرف جانا ہے. مقصد اپنے اصل دشمن کی پہچان ہے ہم نے اسے حاصل کرنا ہے. یہ سب کچھ آپکو پورے حوالہ جات کے ساتھ کتاب میں ہی ملے گا اسکی پر پہلو سے ہم ابھی بھی جانچ کر رہے ہیں. یہ قسط ادھر ہی اختتام پذیر ہوئی.

گلوب ارتھ بطور ایک عالمی سازش

گلوب ارتھ بطور ایک عالمی سازش

کئی لوگ یہ کہتے ملتے ہیں کہ ارے بھائی یہ زمین چاہے فلیٹ ہو یا گلوب  کیا فرق پڑتا ہے؟

اور یہ تم کیا کہتے پھرتے ہو کہ یہ گلوب زمین کے پیچھے ایک بہت بڑی عالمی سازش ہے؟

ارے بھائی اگر یہ سازش بھی ہوئی تو ایسا کیا کہ یہ سازش اتنے بڑے پیمانے پر رچائی جائے کچھ بات پلے نہیں پڑتی!

میں ان سب باتوں کا ایسے جواب دوں گا کہ اِن فری میسنز نے بڑی چالاکی سے   زمین کو ساکن اور  مرکز کائنات کے مقام سے ہٹاکر کامیابی کے ساتھ  ہم سب انسانوں کو   دونوں طرح سےفزیکلی اور میٹا فیزیکلی بھی مات دے دی ہے ہم سب کو ایک عظیم اہمیت کے حامل مقام سے ہٹا کر مکمل طور پر فتنہ انگیزی سے بھرے بے حسی کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔

اگر زمین کائنات کا مرکز ہو، تو وہاں پر اللہ کے ربِ کائنات اور خالق و مالک ِ کُل ہونے کے تصورات ہوں گے، اُس کی تخلیق اور انسانوں کو بنائے جانے کا مقصدجیسی بنیادی باتیں پھلیں پھولیں گیں۔ لیکن اگر زمین کو صرف ایک ایسا سیارہ مان لیا جائے جو کئی بلین سیاروں میں سے ایک سیارہ ہے جو کئی بلین ستاروں میں سے ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے اور وہ ستارہ کئی بلین کہکشاؤں میں سے ایک کہکشاں میں محوِ گردش ہے، تو ایسی بد قسمت جگہ  پر اللہ وحدہ لاشریک  کے  خالق کائنات ہونے کے تصورات، اُس کی تخلیق ، انسانوں اور زمین کو تخلیق کرنے  کے خاص مقصدجیسی باتیں  با لکل نامعقول اور بے وجہ  سی ہو کر رہ جائیں گی۔ ایسا ہی خطرناگ رحجان آ ج کے جدید مادہ پرستی کے دور میں ہر جگہ دیکھنے  کو ملتا ہے۔

 بڑے پراسرار طریقے سے ہم انسانوں میں سائنسی مادہ پرستی اور سورج کی پوجا  کو متعارف کرایا گیا ہے،جس کی وجہ سے ہم نے مادیت کے علاوہ ہر شے پر سے ایمان کھو دیا ہے بلکہ ہم کو صرف مادہ پرستی،سطحی جاہ و جلال، خود غرضی،لذدیت اور کنزیومرازم پر ہی ایمان رکھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اگر کوئی خالق (اللہ) نہ ہو اور سب کا سب صرف ایک حادثے کی وجہ سے ہی بنا ہو تو صرف میں ، میں اور صرف میں ہی رہ جاتا ہے۔ اُنھوں نے میڈونا کوایسی مدر آف گاڈ بنا ڈالاجو ایک مادہ پرست عورت ہے اور مادہ پرستی کی دُنیا میں رہتی ہے۔ اُ ن کی امیر ترین اور طاقتور کارپوریشنز جو واضح سورج کے پجاریوں کے لوگو سجائے ہوئے ہیں، اُنھوں نے ہمیں ایسے بُت بچنے میں کامیاب رہے جن کی پوجا ہو سکے اور آہستگی سے پوری دُنیا پر قابض ہو گئے جبکہ اُسی اثناء ہم خاموشی سےاُن کی ‘سائنس’ پر یقین کرتے رہے اُنکے سیاستدانوں کو ووٹ دیتے رہے،اُ ن کی اشیاء خریدتے رہے، اُن کا میوزک سنتے رہے اور اُن کی بنائی فلمیں دیکھتے رہے۔ اپنی روحوں کو اُن کی مادہ پرستی کی قربان گاہ پر قربان کرتے رہے۔ اِسی پر مورِس کلائن کا بات یاد آ گئی کہ:” ہیلیوسنٹرک تھیوری میں سورج کو مرکزِ کائنات ماننے سےہم نے انسان کو ایک ایسا گداگر بنا ڈالا ہے جو ٹھنڈے آسمان میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اب یہ کم  ہی ممکن رہا ہے کہ جس انسان کو عظمت کے ساتھ رہنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا اوراُس کے مرنے پر جنت کا حصول ممکن تھا۔ اس بات کا بھی کم ہی امکان رہ گیا ہے کہ وہ خالق (اللہ) کی فرمانبرداری کا ایک نمونہ ہوتا۔”

شائد کسی کو میری بات سمجھ آ جائے اور وہ اِس مادہ پرستی کی نیند سے جاگ کر اپنے خالق کی تخلیقات پر نئے سِرے سے غور و غوض کرے۔ اپنی اور کم از کم اپنے گھر والوں کی ہی اصلاح کر لے۔ جاگ جا ا ے انسان ابھی وقتِ تیاری بھی ہے اور وقتِ امتحان بھی کل جب امتحان کا نتیجہ آئے گا تو اگر رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کر رہا ہو گا تو بہت پچھتائے گا بہت پچھتائے گا

Perspective?

پرسپیکٹیو کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے اور اسکا گلوب کرویچر سے کیا لینا دینا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جسکا جواب بہت ہی سادہ اور عام فہم انداز میں اس ویڈیو میں پوری تفصیل سے سمجھایا گیا ہے

فلیٹ ارتھ / ارض المسطحۃ پر سورج کیسے طلوع و غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے؟

اس سوال کا جواب اس ویڈیو سے با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس میں زمین کے ماحول کا تعامل اور ہماری آنکھ کس حد تک دیکھ سکتی ہے، یہ سب رے آپٹک سیمولیٹر کی مدد سے دکھایا گیا ہے


فلیٹ ارتھ پر سورج کیسے طلوع و غروب ہوتا ہے؟

Hello world!

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!